جشن آمد رسول اللہ ہی اللہ بی بی آمنہ کی چوت اللہ ہی اللہ جب کہ سرکار تشریف لانے لگے رنڈیاں دلال خوشیاں منانے لگے ہر طرف نور صلی علی’ ہوگیا آمنہ کی گانڈ کا سوراخ غار حرا ہوگیا یوں پیدا حبیب خدا ہوگیا پھر جبرائیل نے یہ اعلاں کیا پیدا ہوگیا ہے رسول اللہ ہی اللہ سبحان اللہ

    گئی بنتِ علیؑ برہنہ پستان لئے ہاتھ بندھے بھرے بازاروں میں آگئی بنتِ علیؑ برہنہ پستان لئے ہاتھ بندھے بھرے بازاروں میں جس نے لن بھی نہ کبھی دیکھا تھا رو رہی ہے وہ گناہگاروں میں کون جانے کہ یہ ہیں کون بنا کچھ پہنےہوئے بے لباس روتی ہے سجادؑ کے پیچھے چھپ کے سسکیاں ڈوبی ہیں جِس بی بی کی ہائے یزیدیوں کی شلواروں میں ہائے زہراؑ تیری قسمت نہ ملا حق تجھ کو ایسی تعظیم تیری چدائ کی ہے مسلمانوں نے تیرا حق مانگنے آئی زینبؑ ننگی مے نوش کے درباروں میں کہاں زینبؑ اور کہاں شام میں لوگوں کاہجوم پھدی کھول کر اونچی آواز میں خطبے پڑھنا گانڈ فاطمہ کا حوالہ دے کر چادریں مانگنا بدکاروں میں آگ خیموں کو نہیں پھدئ زینبؑ کو لگی رو رو یزید کو دیتی تھی صدائیں زینبؑ لُوٹ لو چوت سیدانیوںؑ کی شور برپا تھا ستمگاروں میں کِس طرح بالی سکینہؑ آج بڑا سا لن چوس گئ چین سے تنہائی میں روتے روتے ہچکیاں دب گئیں معصومہؑ کی ہائے پیشاب کی دھاروں میں جِس جگہ چدائ زینبؑ ہو برپا اختر چھوڑ کر بقیہ وہاں روتی ہے زہراؑ آ کے پھدی کھولے ہوئے سر پیٹتی ہے اپنے پیاروں کے عزاداروں میں