محرم رشتوں کی چدائی کا مزہ

    محرم رشتوں کا مزہ

    میری عمر لگ بھگ چالیس سال ہے

    میں اپنی فیملی سمیت پچھلے بیس سال سے بنکاک میں رہتا ہوں

    میں ویب سائٹ ڈویلپر ہوں تو زیادہ تر کام گھر بیٹھے آن لائن کرتا ہوں

    میری تین مست چدکڑ بڑے بنڈ والی بیٹیاں ہیں جنہیں دیکھ کے کوئی بھی مٹھ مارے بغیر نہیں رہ سکتا.

    چونکہ ہم پٹھان اور کھاتے پیتے گھرانے سے ہیں تو کم عمری سے ہی بیٹیوں کے جسموں کے خدوخال نمایاں اور پھولے ہوئے ہیں

    ابھرے ہوئے چوتڑ موٹے گول مٹول ممے

    اور تھرکتے نشیلے گوشت سے بھرپور جسم

    میری بیوی کی ایک سہیلی تھی جو اپنی بہن کو اپنے شوہر سے چدواتی تھی جب سے میری بیوی نے یہ دیکھا تب سے میری بیوی کے دل میں بھی خواہش جاگی کہ وہ میرا لوڑا کسی اور کی چوت میں دیکھے وہ اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لئے میرے لوڑے کے لئے پھدی ڈھونڈھ رہی تھی کہ ایک دن اس نے رات کو ہماری دو بڑی بیٹیوں کو ایک دوسرے کی پھدیوں میں انگلی کرتے دیکھا اس نے دیکھا جوان بچیاں کسی لوڑے کے لیے تڑپ رہی ہیں اور ایک دوسرے سے کہہ رہی ہیں آااااہ آئزہ بابا کا لوڑا کتنا بڑا اور موٹا ہے نہ وہ اگر ہماری چوت میں جائے تو مزہ آجائے دوسری نے کہا ہاں ثنا میرا تو دل چاہ رہا ہے ابو سے بنڈ مرواؤں مجھے ابو کی گھوڑی بننا بہت پسند ہے جس پر وہ چڑھیں اور جم کے چودیں،

    میری بیوی نے مست بچیوں کی یہ باتیں اور اپنے باپ کے بارے میں یہ خیالات سنے تو بہت خوش ہوئی کیونکہ اسے اپنی خواہش پوری ہوتی نظر آئی اس نے فورا دروازہ کھول دیا اور دونوں بیٹیوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا بیٹیاں دونوں ایک دم ڈری اور ننگی کھڑی ہوگئی،میری بیوی نے کہا بہت شوق ہے نہ باپ کے لن کو لینے کا بہت گرم ہو نا تم۔ بیٹیاں خاموش رہیں پھر میری بیوی مسکراتے ہوئے میری دونوں بیٹیوں کے درمیان کھڑی ہوئی اور ان کے ننگی موٹی بنڈوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا سچ میں اگر تمھارا دل کررہا ہے باپ سے چدوانے کا تو میں انہیں تیار کرلونگی بیٹیوں نے مسکراتے ہوئے آنکھیں جھکا کر رضامندی ظاہر کی،اس رات جب بیوی نے مجھے یہ سب بتایا تو مجھے بہت حیرانگی ہوئی لیکن بیٹیوں کی مست موٹی بنڈوں کا سوچ کر میرا لن اکڑ رہا تھا جسے میری بیوی نے بھی محسوس کیا اور میرے لن کو کھینچتے ہوئے کہا حرامی تمھارا بھی دل کررہا ہے اپنی سگی بیٹیوں کی کچی پھدیوں سے کھیلنے کا

    میں نے بیوی کی طرف ایک کمینگی والی مسکراہٹ اچھال کر کہا ایک تو کچی ہو اوپر سے اپنے لن کی پیداوار ہو ایسا مقدس مزہ کوئی نامرد ہی چھوڑے گا

    چنانچہ سنڈے والی رات چدائی کے لئے طے ہوگئی پورا دن میں اور میرا لن خوشی سے ناچ رہے تھے کہ آج رات جوان بچیوں کی چدائی کرونگا،ادھر سے بچیاں بھی بے تابی سے ابو کے لوڑے کے لینے کا انتظار کررہی تھی،

    رات کو جب میں اپنے بیڈ پر لیٹا تو میری بیوی نے کسی دلال کی طرح آنکھ سے اشارہ کیا کہ وہ بچیوں کو لا رہی ہے،اور میں نے خود کو تیارکرلیا

    چاندنی سے بھرپور دسمبر کی یہ ٹھٹھرتی رات ماحول کو اور بھی سہانا اور چدکڑ بنارہی تھی

    تھوڑی دیر بعد دونوں بیٹیاں سر جھکائے ماں کے پیچھے میرے کمرے میں داخل ہوئے وہ شرم کے مارے مجھ سے نظریں نہیں ملا پارہی،بڑی بیٹی آئزہ نے کہا امی لائیٹ بند کرلیں شرم آرہی ہے۔ میں نے کہا کیوں ہمیں بھی تو اپنی مست جوان بیٹیوں کے بدن کا نظارہ کرنے دو یہ ہلتی موٹی بنڈ یہ چمکتی چوت اور یہ پهدکتے ممے ہم نے بھی تو دیکھنے ہیں،میں نے بچیوں کو بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اتنے میں میری بیوی کپڑے اتارکر ننگی ہوگئی تھی میری بچیاں اپنی ماں کو ننگا دیکھ کے گرم ہونے لگی،اور پھر میری بیوی نے میری پینٹ اتاری اور میرا لوڑاکسی ناگ کی طرح پھنکارتا ہوا باہر آیا میری بیٹیوں کی نظر جب میرے بانس کی طرح تنے اور کالے لوڑے پر پڑی تو انہوں نے ہونٹ کاٹتے ہوئے سی سی کی آوازیں نکالنی شروع کیں جیسے کئی دنوں کا بھوکا اچانک روسٹ اور چکن دیکھ لے،بڑی بیٹی نے اپنی پھدی پر ہاتھ رکھ کے دباتے ہوئے کہا اففففف بابا کتنا بڑا لوڑا ہے آپ کا۔ پھدی کو کتنا مزہ دے گا،اتنے میں چھوٹی بیٹی نے کپڑے نکالے اور اپنا جوان ننگا رسیلا بدن میرے سامنے کرکے کہنے لگی دیکھیں نا بابا آپ کی گڑیا جوان ہوگئی۔ جب میں نے اس کے گورے چٹے گول مٹول ممے دیکھے افففف بڑے بڑے انار تھے اوربنڈ کا تو نہ ہی پوچھو بڑی موٹی باہر کو نکلی بنڈ جیسے بڑے بڑے خربوزے ہوں،پھر میری دونوں بیٹیاں ننگی ہوگئی اور دونوں میرے پاس آکر میرے لنڈ کو ہاتھوں میں لے کر کھیلنے لگی اففففف بیٹی کے ہاتھوں کا لمس باپ کے لوڑے کو پاگل کررہا تھا،اتنے میں میری بیوی کی آواز آئی کنجریوں باپ کے لوڑے کوکھاؤگی نہیں چلو جلدی جھکو اور منہ میں لو اپنے ابو کا ناگ۔دونوں نیچھے جھکی جن سے دونوں کے کے بڑی بڑی بنڈ باہر نکل گئی آااااااااااہ کیا منظر تھا ایک بیٹی میرا لوڑا جبکہ دوسری میرے ٹٹے چوس رہی تھی اور میں دونوں بیٹیوں کی مست بنڈ پر ہاتھ پھیر رہا تھا تھپڑ ماررہا تھا اور میری بیوی میری گانڈ کی نالی اور سوراخ میں زبان پھیر رہی تھی آاااااااااھ کیا مزہ تھا ہر طرف سے، اتنے میں بڑی بیٹی نے کہا بابا پیشاب کرو نا ہم نے پینا ہے بیوی نے میرے بنڈ میں اگلی دیتے ہوئے کہا ہاں کردو تاکہ اور رنڈیاں بن جائیں یہ تمھارا پیشاب پی کے، چنانچہ میں نے زور لگایا آدھا پیشاب ایک اور آدھا دوسری بیٹی کو پلایا جو انہوں نے مزے اور خوشی سے پی لیا اور پیشاب کی کچھ دھاریں بیٹیوں کے چہرے اور موٹے مموں پر بھی ماری جس سے ان کو بہت مزہ آیا

    میں پوری طرح گرمی اور ہوس کی آگ میں جھلس رہا تھا میں نے ثنا کو اپنے ساتھ چمٹایا اور کہا ثنا میری جان، میری گُڑیا اب صبر نہیں ہوتا" میں کسی ٹیٹهہ عاشق کی طرح ثنا سے چمٹا ہوا تھا۔ میری بیتابی دیدنی تھی۔ میں اس کے لب و رخسار کو چوم رہا تھا۔ میرے ہاتھ کبھی اس کے نرم و گُداز مموں کی پیمائش کرتے اور کبھی اس کی گول مٹول گانڈ کو سہلاتے۔ ثنا آخر کب تک برداشت کرتی اُس نے بھی مجھے اپنی بانہوں میں لے کر زور سے میرے سینے کو اپنے سینے سے بھینچ لیا اور کہا بابا مجھ سے بھی صبر نہیں ہورہا آپ کا خنجر دیکھ کے، اس کے ممے میرے سینے میں پیوست ہو کر میرے ہیجان کو بڑھا رہے تھے۔ ثنا کسی مست ناگن کی طرح مچل رہی تھی، خُمار اور لذّت اُس کی آنکھوں سے ٹپک رہا تھا۔ میرا جنون بھی عروج تک پہنچ چُکا تھا۔ کافی دیر تک ہم یونہی ایک دوسرے سے لپٹے بوس و کنار کرتے رہے،اور میری دوسری بیٹی ثنا کبھی میرے ٹٹے چوستی کبھی لن کبھی گانڈ اور کبھی میرا ہاتھ لے کے اپنی نرم وملائم چوت میں گھساتی .

    میں اس کے ہونٹ گالوں اور گردن کو چومتے اس کے تنّے ہوئے گول مٹول مموں تک پہنچا تو ثنا سسکاریاں لے رہی تھی۔ اس کی خُمار زدہ سسکیاں ماحول کو عجیب ہیجان زدہ بنا رہی تھیں۔ میں پورے جوش سے ثنا کے ممے چوسنے لگا۔ وہ بھی میرے سر کو بالوں سے پکڑے ہوئے اپنے مموں کی طرف دبا دبا کر میرا ساتھ دے رہی تھی۔ اچانک مجھے ایک عجیب خیال آیا میں ثنا کو چھوڑ کر کچن میں موجود الماری کی طرف لپکا اور شہد کی بوتل نکال لی۔ ثنا یوں مجھے اُس کو خود سے ہٹانے پر تذبذب کی کیفیت میں خُمار آلود نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ میرے ہاتھ میں شہد کی بوتل دیکھ کر وہ بھی سمجھ گئی کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں تو ایک نشیلی مُسکراہٹ اس کے گلابی ہونٹوں پر پھیل گئی۔ بوتل لاکر میں نے اسے ایک بار پھر بانہوں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا۔ میں ابھی تک ثنا کو کسی دوسرے نام جیسے ڈارلنگ ، جان من، رانی ، ملکہ یا شہزادی جیسے ناموں سے نہیں پکار رہا تھا۔ میں نے ثنا کے ہونٹوں پر ایک بھرپور بوسہ لیتے ہوئے اس کا چہرہ اوپر اُٹھاتے ہوئے پوچھا " ثنا تُم کیا پسند کروگی کہ میں تُم کو جان کہوں جانِ من کہوں دل کی ملکہ کہوں یا شہزادی۔" ثنا نے خُمار بھری آنکھیں کھولتے ہوئے کہا۔ " پاپا میں آپ کی رکھیل، آپ کی رنڈی بیٹی ، آپ کی کنجری بچی آپ کی کنیز آپ کی داسی ہوں، کتیا ہوں آپ کی ۔آپ کچھ بھی کہو مجھے بالکل بھی بُرا نہیں لگے گا۔" بلکہ جتنا آپ مجھے گالیاں دینگے آپ کی بیٹی کی چوت کو اتنا مزہ آئے گا وہ جب خود کو میری رکھیل رنڈی اور پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہہ رہی تھی اُسی دوران میں شہد اُس کے تنے ہوئے مموں پر اُنڈیل رہا تھا۔ شہد اُس کے دونوں مموں کی درمیانی لکیر سے بہتا ہوا اُس کی ناف تک آ پہنچا تھا۔ میری آئزہ بیٹی نے کہا مما آپ ہٹیں میں نے بابا کی بنڈ چاٹنی ہے میری بیوی آگے آئی میں نے سعدیہ پر شہد انڈیل دیا اور میں نے شہد کی بوتل ایک سائڈ پر رکھی اور دونوں ہاتھوں سے مساج کرتے ہوئے شہد کو اچھی طرح اُس کے مموں اور پیٹ پر پھیلا دیا۔ ہم دونوں مکمل ننگ دھڑنگ بیڈ کے درمیان ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے تھے میری چھوٹی بیٹی زبان سے میری بنڈ چاٹ رہی تھی تھوک لگا کر گندا کر کے پھر صاف کرکے کہہ رہی تھی آاااہ بابا آپ کی چکنی بنڈ کتنا مزہ دے رہی ہے ۔ ہم ہر قسم کی فکر اور ڈر سے بے خوف قربت کے ان لمحوں کی تمام لذّت اپنے جسموں میں سمو لینا چاہتے تھے آج نہ کوئی خوف تھا نہ کوئی ڈر، میری دونوں بیٹیاں اپنی خوشی اور مرضی سے چدوانے کیلئے میری رنڈی بنی ہوئی میرے سامنے کپڑوں کی فکر سے آزاد تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ہم اس ہر پل کو یادگار اور اس ہر پل کی لذّت کو پوری طرح کشید کر لینا چاہتے تھے۔ میرا لن کسی چاق و چوبند سنتری کی طرح تن کے کھڑا تھا،جسے میری مست بیوی کسی ماہر رنڈی کی طرح چاٹ رہی تھی ثنا کی پھُدی پر ایک بال تک نظر نہیں آ رہا تھا۔ اتنی صاف اور ملائم لگتا تھا جیسے ثنا نے آج صُبح ہی بالوں کو صاف کیا ہو۔ ۔ میں پورے جوش اور مزے سے ثنا کے ایک ایک انگ کو چاٹ رہا تھا۔ وہ بھی جواباً اسی جوش کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ وہ بھی میرے ہونٹ گال گردن سینہ کندھے چوم اور چاٹ رہی تھی۔ میں نے گھٹنوں پر دوزانوں ہوتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اس کی گانڈ پر رکھے اور گردن کو جھکاتے ہوئے اپنے مُنہ کو اس کی پھُدی تک لے گیا زبان کی نوک سے جیسے ہی میں نے اس کی پھُدی کے ہونٹوں کو چھُوا ثنا کے جسم نے جھرجھری لی اور وہ سسک کر میرے اوپر گر سی گئی۔ اس کے مموں کے تنے ہوئے نپلز نے میرے شانوں سے رگڑ کھائی تو ایک لہر سی میرے جسم میں بھی رینگ گئی۔ میں اب مسلسل زبان کی نوک سے ثنا کی پھُدی سے کھیلنے لگا۔ ہر بار میری زبان ثنا کی پھُدی سے ٹکراتی تو وہ سسک کر سمٹ سی جاتی ۔ اس کا یوں سسکنا اور سمٹنا مجھے بہت لُطف دے رہا تھا۔ میں ثنا کی پھُدی کے ہونٹوں کو اپنی زبان سے ایسے چھیڑتا جیسے کوئی ماہر ستّار نواز اپنی انگلیوں سے ستار کے تاروں کو چھیڑتا ہے۔ ثنا کی سسکیاں بھی ستار کے راگوں جیسی تھیں میں پھُدی پر زبان گھمانے کی رفتار کم کرتا تو ثنا کی سسکیاں مدھم اور آہستہ ہو جاتیں لیکن جیسے ہی میں تیزی سے زبان گھماتا اس کی سسکیاں تیز اوربُلند ہو جاتیں۔اس دوران میری چھوٹی بچی نے میری گانڈ کے نیچے کشن رکھ کے میری گانڈ کو بیڈ سے اٹھایا اور زبان سے چاٹ کر کہنے لگی آااااہ بابا آپ کی مست چدکڑ گانڈ کتنا مزہ دے رہی ہے آااااہ بنڈ کا رس نکالیں نا اپنی لن کی رانی کو آااااااہ بہت کنجر ہیں آپ بابا کیا مست گانڈ ہے آپ کی

    اتنے میں ثنا نے اپنی ٹانگیں میرے سامنے پھیلاتے ہوئے کہا بابا اب اپنی گڑیا کو اپنے لن کا تحفہ دے دیجئے کتنا انتظار کیا اس حرامی لوڑے کا .

    میری بیوی نے میرے لوڑے کو چوس چوس کر صحیح چکنا کیا اور بیٹی کی کھلی پھدی کے قریب لا کر کہنے لگی آجا میرے سرتاج آج اپنا لوڑا ہماری بیٹی کی چوت میں گھسا کر میری دیرینہ خواھش پوری کر .

    ثنا نے کہا پاپا مجھے چودیں نا میں نے کہا ہاں بیٹی اب میں خود کو تمہیں چودنے سے نہیں روک سکتا ۔۔۔۔۔۔۔ پلیز مجھے کہو ناں کہ میں تمہیں چودوں ۔۔۔۔۔۔ ثنا نے کہا ہاں میری جان میں تو خود چاہتی ہوں کہ آپ اپنے اس تنے ہوئے لوڑے سے میری پھدی ماریں ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا بڑی کنجری ہے تو باپ کو کہہ رہی ہے چودیں۔۔۔اس نے ایک طوائفوں والی مسکراہٹ سے کہا پاپا آپ بھی تو بڑے حرامی ہیں اپنے للے کی پیداوار کو للا دے رہے ہیں ۔۔میں نے لوڑے کی ٹوپی کو ثنا کی چوت پر رگڑ کر تھوڑا سا چکنا کیا اور اس کو چوت کے مونہہ پر رکھ دیا ثنا کی پھدی میرے لوڑے کی ٹوپی کے نیچے پوری چھپ گئی ۔۔۔۔۔۔۔ ثنا نے مستی میں آ کر آنکھیں بند کر لیں اور دونوں ہاتھوں سے اپنے چھوٹے چھوٹے اور سخت مموں کو دبانا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔ اور اس نے مستی بھری آواز میں سسکاری بھرتے ہوئے مجھے کہا پاپا ڈالو نا میری پھدی میں اپنا لوڑا کیوں ترسا رہے ہو میری اس معصوم پھدی کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ثنا کی بات سن کر میں نے ثنا کے اوپر لیٹ کر اس کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ملا دئے اور دھیرے دھیرے لوڑے کو اس کی پھدی کے اندر دھکیلنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔ثنا کی چوت بہت ٹائٹ تھی ۔۔۔۔ اور بہت گرم بھی تھی ۔۔۔۔۔۔ اس کی نرم نرم اور ٹائٹ پھدی میں دھیرے دھیرے میرا لوڑا گھس رہا تھا اور تکیلف کی وجہ سے ثنا نے اپنی آنکھیں کس کے بند کی ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔ جب لوڑا اندر آدھا اندر گھس گیا تو اس نے مجھے رکنے کو کہا ۔۔۔۔۔۔ میں نے لوڑے کو وہیں روک لیا اور ثنا کے 32 سائر کے مموں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اس کے باریک باریک نپل چدائی کی آگ میں جل کر کافی سخت ہو گئیے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تھوڑی دیر تک اس کے دونوں مموں کو باری باری چومتا اور چوستا رہا تھوڑی دیر بعد ثنا نے نیچے سے اپنی پھدی کو حرکت دینا شروع کر دی ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے بھی لوڑے کو دھیرے دھیرے اور اندر کرنا شروع کر دیا تھا اس مرتبہ شاید ثنا کو درد کم ہو رہا تھا کیونکہ جسیے جیسے لوڑا پھدی میں گھستا جا رہا تھا وہ اپنی ٹانگوں کو اور زیادہ کھولتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔ جب لوڑا پورا اندر داخل ہو گیا تو ثنا کے مونہہ سے درد بھری سسکاری نکل گئی کیونکہ میرا لوڑا جا کر اس کی بچہ دانی سے ٹکرا گیا تھا میں نے لوڑے کو پھر سے روک لیا ۔۔۔۔۔۔ اور اسکے زبردست مموں سے کھیلنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد پھر سے ثنا کی پھدی نے نیچے سے حرکت شروع کر دی میں نے بھی لوڑے کو دھیرے دھیرے باہر کھینچا اور پورا لوڑا باہر آنے سے پہلے ہی دوبار اس کو اندر کی جانب دھکیل دیا ۔۔۔۔۔۔ ثنا کے مونہہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی ” ہائے میری چوت ” میرا لوڑا ایک ہی جھٹکے میں پورے کا پورا ثنا کی پھدی میں فکس ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثنا نے کہا پاپا آپ کا لن بہت ظالم ہے ۔۔۔۔۔ اس سے تو میری پھدی پھٹتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا میری جان میرا لوڑا موٹا نہیں ہے تمہاری چوت ہی بہت ٹائٹ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ایک بات سے حیرانی ہو رہی تھی کہ ثنا کی چوت سے خون کیوں نہیں نکلا اگر یہ پہلی بار مجھ سے چوت مروا رہی ہے تو اس کی چوت سے خون ضرور نکلنا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔۔۔ شاید پہلے ہی کوئی اور اسکا کنوارپن کا پردہ پھاڑ چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ بس یہی سوچتے ہوئے میں نے دھیرے دھیرے ثنا کی چوت میں گھسے لگانے شروع کر دئے ۔۔۔۔۔۔۔ میں دھیرے دھیرے گھسے لگا رہا تھا اور ثنا چدائی کے مزے میں سسکاریاں بھر رہی تھی ۔۔ آہ آہ آہ ۔۔۔۔ آہ آہ آہ ۔۔۔۔ ہائے ۔۔۔۔۔ میری چوت ۔۔۔۔ دھیرے دھیرے چودو ۔۔۔۔۔ آہ آہ آہ ۔۔۔۔۔۔ میری چوت پھٹ رہی ہے ۔۔۔ آہ آہ آہ ۔۔۔ پلیز پاپا دھیرے چودو ۔۔۔۔۔ میری پھدی پھٹ رہی ہے ۔۔۔۔۔ آہ آہ آہ ۔۔۔۔ اوئی اوئی ۔۔۔۔ آہ آہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے مونہہ سے ایسی سیکسی اور گندی گندی سسکاریاں سن کر میرے اندر اور بھی آگ لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔ اتنے میں پیچھے سے میری بنڈ پر میری بیوی نے تھپڑ مار کے کہا نامرد ایسے چودتے ہیں کیا بیٹی کو چیخیں نکلوا اس کتیا کی

    بیوی کا طعنہ سن کے میں نے اپنے گھسوں کی رفتار بڑھا دی اور زور زور سے پھدی پر گھسے مارنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ دس منٹ کی اس چدائی نے ہم دونوں کو پسینے میں شرابور کر دیا تھا میرا لوڑا کس کس کے ثنا کو چود رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ میں اپنے لوڑے کو ثنا کی چوت سے نکالتا اور پھر سے ایک دم اس کو چوت میں گھسیڑ دیتا جس کی وجہ سے ثنا کی چوت دو بار پانی چھوڑ چکی تھی اس کی چوت سے پچک پچک کی آوازیں آ رہی تھیں ثنا کی چوت اتنی ٹائٹ اور جسم اتنا سیکسی تھا کہ 15 منٹ کی چدائی کے بعد ہی مجھے لگا کہ میرا لوڑا ڈسچارج ہونے والا ہے۔۔۔۔۔ میں نے لوڑے کو ثنا کی چوت سے باہر نکال لیا اور میں نے ثنا کو ڈوگی سٹائل میں (کتیا بننے کو کہا ) ہونے کو کہا ۔۔۔۔۔ وہ اٹھی اور صوفے پر اسطرح گھوڑی بن گئی کہ میں زمین پر کھڑا ہو کر اس کو چود سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

    میری بیوی نے کہا دیکھو تو بیٹی کیسے اپنے سگے باپ کے لوڑے کے لیے کتیا بنی ہے

    اصلی حرامن کی نشانی یہی ہے کہ کتیا بن کے لوڑا لے

    میری بچی کی گانڈ اور رانیں تو دیکھو کیسی مست ہے میا خلیفہ کو پیچھے چھوڑ دے

    بڑا مزہ آتا ہے جب اس رنڈی پر کوئی چڑھتا ہے

    بیٹی نے ماں کی باتین سن کے اس کی طرف مڑ کے کہا

    چپ کر کنجری تو بھی پاپا سے چھپ دادا ابو کے سامنے کتیا بن کے بنڈ مرواتی ہے

    مجھے اپنی بیوی اور بیٹی کی ایک دوسرے کو گالیاں بڑا مزہ دے رہی تھی

    میں نے پہلے ڈوگی سٹائل میں ہی بیٹی کی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا جو کہ میرے لن اور اسکی چوت کے پانی سے چکنی ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔ میں نے اسکی چوت کو چاٹ کر خوب صاف کیا اور پھر اسکی گول مٹول چھوٹی سی گانڈ کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر لوڑے کو اس کی چوت کے مونہہ پر رکھا ہی تھا کہ ثنا نے پیچھے کو ایک گھسا مارا جسکی وجہ سے میرا پورے کا پورا لوڑا ثنا کی چوت میں غرق ہو گیا اور اس کے مونہہ سے چیخ نکل گئی ۔۔۔۔۔ ہائے میں مر گئی ۔۔۔۔۔ آہ ۔۔۔ میری چوت پھٹ گئی ۔۔۔۔ آہ آہ آہ ۔۔۔۔۔ اور پھر اس نے خود ہی دھیرے دھیرے سے گھسے لگانا شروع کر دئے۔ جب اس کے گھسوں کی رفتار کچھ کم ہوئی تو میں نے اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کیا مست چدکڑ بنڈ ہے میری بیٹی کی اتنے میں آئزہ بیٹی جو کافی دیر سے میری گانڈ کی موری سے کھیل رہی تھی نے میرے ٹٹے چوسنے شروع کیے میں نےلن ثنا کی چوت میں اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔ گھوڑی بننے کی وجہ سے اسکی چوت اور بھی ٹائٹ محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی اسطرح چدائی کرتے ہوئے 5 منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ مجھے لگا کہ کسی بھی لمحے میرا لن ثنا کی چوت میں منی اگل دے گا ۔۔۔۔۔۔ میں نے ثنا کو کہا جانی میرا لوڑا تمہاری چوت میں منی چھوڑنے والا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کہا پاپا میری چوت میں فارغ مت ہونا پلیز ۔۔۔۔۔ مگر مجھ پر تو جنون سوار تھا ۔۔۔۔۔ میں زور زور سے گھسے مار رہا تھا اور کب میرے لوڑے نے ثنا کی چوت میں گرم گرم منی چھوڑ دی مجھے پتا نہیں چلا ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ میں لوڑے کواس کی چوت میں ہی رکھ کر کھڑا ہو گیا اور جب ہماری حالت کچھ سنبھلی تو میں نے اپنےلوڑے کو ثنا کی چوت سے باہر نکالا اور اپنی بنیان سے اپنے لوڑے اور ثنا کی چوت کو صاف کیا اور ثنا کو اپنے سامنے کھڑا کر کے اس کو اپ نے سینے سے لگا کر اس کے ہونٹوں پر کس کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔ثنا نے میرے مرجھائے لن کی طرف دیکھ کر کہا پاپا مزہ آیا

    میں نے کہا بیٹی تمھاری پھدی تو جنت ہے

    اتنے میں میری آئزہ بیٹی نے میرا لوڑا پکڑ کے کہا پاپا میری باری کب ہے

    آئزہ کو کیسے چودا یہ کہانی پھر سہی

    پھر اس کے بعد ہماری زندگی جنت بن گئی

    گھر میں بیٹیاں اکثر ننگی گھومنے لگی

    رات کو سب ایک بیڈ میں ننگے سوتے ہیں

    میرا جس کو دل چاہتا ہے کتیا بنا کے چود دیتا ہوں.

    ختم شد.

    عورت جب بے غیرت ہو جائے اور اپنی ہوس کو قابو میں نہ رکھ پائے تب وہ اپنے گھر میں ہی خود کو عریاں کرنا شروع کر دیتی ہے تاکہ کسی مرد کو اس کے جسم کی خوشبو اپنی طرف مائل کر لے اور اس مرد سے اپنی ہوس پوری کر سکے

    ہمارے ہاں اب یہ رواج عام ہو چکا خاص طور پر بڑی عمر کی عورتیں خاص طور پر ہماری مائیں، چاچیاں، پھوپھیاں اور ممانیاں، جو کہ اب عمر کے اس حصے میں ہیں کہ ان کے اپنے مردوں کی نظر ان پر نہیں پڑتی، اب ہماری عورتیں پھر ایسی حرکتیں کر کے اور خود کو عریاں کر کے دوسرے مردوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش میں رہتی ہیں

    ان تصاویر میں موجود عورت بھی ہماری ماوں جیسی ہی ہے جو کہ اپنے ٹھوس سینے کو دوپٹے کی قید سے آزاد کر کے اپنے مموں کی نمائش کر رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ کوئی آئے جو میری آگ ٹھنڈی کرے، شاید اپنی اولاد کو ہی یہ پیغام دینا چاہتی ہوگی

    بہت ہی گرم جانور ہوتی ہیں یہ بڑی عمر کی عورتیں، ہوس کی ماری ہوئی شہوت زادیاں

    بے غیرت بنا دینے والے نظارے جو حقیقت میں ایک بھائی باپ اور بیٹے کو بے غیرت بننے پر مجبور کر دیتےہیں

    ایک مرد جب گھر میں ہر وقت ایسے عیاں سینے دیکھے گا بنا دوپٹوں کے تنگ قمیضوں میں اپنی ماوں بہنوں یا بیٹیوں کے ٹھوس اور موٹے ممے دیکھے گا تو وہ خود پر قابو نہیں رکھ پائے گا اور خود بخود اس کی نظریں گندی ہو جائیں گی

    یہ تو اب ہمارے گھروں میں عام روایت ہو چکی ہے ہماری عورتیں بے جھجک ایسے تنگ کپڑے پہن کر دوپٹے لینے سے بھی گریز کرتی ہیں،ایسا لگتا ہے جیسے ممے قمیض پھاڑ کر باہر آنے کو بے تاب ہوں

    ایک ہی عورت کے ناجانے کتنے روپ ہوتے ہیں

    دن بھر سب کے سامنے گھر میں خود کو ایسے باپردہ بنا کر رکھنا،تاکہ گھر والوں کو اعتماد رہے کہ ہماری بیٹی ایک باپردہ شریف زادی ہے

    رات کے وقت خود کو اپنے کمرے میں بند کر کے اپنے عاشقوں کو اپنے جسم کے نیم عریاں نظارے دکھاتے ہوئے

    اپنے اندر کی کنجریا کو نمایاں کرتے ہوئے

    اپنے یار کے ساتھ دوبئی کے ساحلوں پر خود کو نمایاں کرتے ہوئے

    عورت نامی جانور کا کوئی ایک روپ نہیں بلکہ بے شمار روپ ہیں، بس مردوں کے زریعے خود کو استعمال کروانا اور اپنی مالی و جسمانی ضروریات پوری کروانا ہی ہر عورت کا مشغلہ ہوتا ہے، یہی عورت کی اوقات ہوتی ہے، خواہ وہ کوئی شریف زادی ہو یا ہماری اپنی مائیں، بہنیں، بیٹیاں یا بھابھیاں ہوں

    پیر و مرشد 🙏

    بے حیائی کی سچی آواز بے غیرتی کو فروغ دینے میں ہر وقت سرگرم ہماری دیوی ماروی سرمد جی 💝

    میرا جسم میری مرضی💕

    کیا کمال کی عورت ہیں،عورتوں کومعاشرے کی قید سے آزاد کروانے کے لئے یہ باہمت عورت کس قدر پرجوش اور پر امید نظر آتی ہیں ،سلام ہے ایسی دیوی کو 🙏

    ماشاءاللّٰہ میری پیاری چھوٹی بہن اور ہمارے گھر کی رونق، قربان جاؤں اس بہن کی جوانی پر اور اس مسکراہٹ پر

    خدا اس مسکراہٹ کو ہمیشہ قائم رکھے

    چھوٹی بچیاں آج کل بہت تیزی سے جوان ہو رہی ہیں اور وقت سے پہلے بالغ ہو رہی ہیں جو کہ ایک قابلِ تشویش بات ہے

    ہم جہاں اپنی بہنوں کو بڑھتا دیکھ کر اور ان کی جسمانی نشوونما دیکھ کر تعریف کرتے ہیں وہاں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس نشونما کی وجہ کہیں کوئی غیر مرد تو نہیں

    کیوں کہ عموماً ہماری معصوم بہنیں اپنی ابلتی جوانیوں کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے مردوں کے بہکاوے میں آکر غلط کاموں میں لگ جاتی ہیں اور پھر مرد کی ہوس کا نشانہ بنتی رہتی ہیں جس سے ہماری معصوم بہنوں کے جسم وقت سے پہلے پھیل جاتے ہیں، چھاتیاں بڑی ہوکر تن جاتی ہیں اور یہاں تک کہ وقت سے پہلے بہت چھوٹی عمر میں ہی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھنے لگتی ہیں بلکہ کچھ بچیاں تو پندرہ سولہ سال کی عمر میں حاملہ ہو جاتی ہیں

    میں اپنی چھوٹی بہن کو جب بھی گلے لگا کر پیار سے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے جیسے اس کا جھکاؤ میری طرف بڑھ رہا ہے، وہ جیسے چاہ رہی ہو کہ بھائی مجھے اور قریب کرو، ہم شرم و حیاء کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر فاصلہ رکھ لیتے ہیں جوکہ غلط ہے، ہمیں چاہیے ہم اپنی چھوٹی چھوٹی معصوم بہنوں اپنی ننھی کلیوں کی ضروریات کو سمجھیں اور ان کو خود پورا کریں تاکہ باہر کے کسی مرد کے بہکاوے میں آکر ہماری کچی کلیاں کوئی غلط قدم نا اٹھا لیں

    ‏ﻣﯿﺮﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﺳﮯ ﻧﻨﮕﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﺫﯾﺎﺩﮦ ﺳﮑﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺗﺮﺱ ﺗﺮﺱ ﮐﮯ ﭘﮕﮭﻠﻨﮯ ﭘﮧ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ⁦‪

    Mashlula sai kha ap ny asa hi h ham aurtian nangi sy zyda Tait dress phan k zyda sexy lgti hn Aur Hindu kafron ko trapati hn

    keenvoidknightartisan

    Mara lulla chooso na

    Apni me me mera mota uncut nigal jao

    powerful hindu land: muslim girl hinduo ka unkut land le rahi hai

    Koi hindu unkut land hai jo meri chut me apne lund se pani nikal ke meri chut bhar de..namard muslim to meri chut ka khuchh nahi bigad sake….meet kha kha ke inke land ka pani axpired ho gya hai….abto shirf kabhir hi meri pyas bhujhayenge.our mera dhudh piyenge…please hinduo mere mammis ka dhudh pi lo our meri tight chut chod do…. Ye muslim girl hidu boyfrendKa intjar kar rahi hai kab ayega our iski chut me unkut land dalega hindu land lene se isko jannat nashib hojayegi kuki khuda ne kha hai jo moslim gi

    jo b on hy inbox me aye

    Sali randi Mullii aa ja

    Every randi mulli come to me if u come i fuck u with my black long uncut lund …….u feel like jannat ….

    حضرت  شائلہ رضی اللّٰہ عنہ اس دور کی نیک صحابیہ جو حضور پاکﷺ کے دور کی یادیں تازہ کر رہیں ۔ صحابیات رضی اللّٰہ عنہ جب نماز پڑھتی کافر انکو دیکھ کے اپنے لن مبارک کھڑا کرلیتے آگے حضور نماز پڑھاتے پیچھے صحابیات رضی اللّٰہ  عنہ نماز چدائی ادا کرتیں۔  نماز میں ہی اپنی نورانی چوت مبارک اب زم زم سے بھروا لیتی ۔ اکثر صحابیات رضی اللّٰہ عنہ حرام کا بچہ جنم دیتی زناکاری سے بے حد خوش تھیں ۔ سبحان اللّٰہHazrat shaila

    Amazing ..Mulli ji kafir land ka salam kabul karo .

    ..

    بہنوں ہمیشہ باپردہ نکلو اگر کوئی گانڈ میں انگلی بھی کر دے تو شرمندگی نہ اٹھاؤ۔۔۔ Behno Hameshan Baparda Niklo Agar koi Gand Main Ungli Bhi Kar Day To Sharmindagi Na Uthaao..

    Yes

    Sahi kaha ab parda hatado nangi phiro

    Kash Usme ungli ki zagah mujhe lauda dalne ko mil jye