بشیر کانسٹیبل پارٹ 2

موٹر سائیکل چلتے ہی بشیر نے مجھے پیچھے سے زور سے جپھی لگا لی، اور میرے ہونٹوں پر ہاتھ پھیرنے لگا، میں نے کہا چھوڑو لوگ دیکھ رہے ہیں اردگرد، خیر پھر وہ پیار بھری باتیں کرنے لگا کہ کل رات سے میں تمہارے لیے بہت بیتاب تھا سارا دن مشکل سے گزرا کہ جب 5 ہوں اور میں بس سٹاپ پر تمہارا انتظار کروں، جیسے ہی جنگل والا راستہ شروع ہوا مغرب ہو چکی تھی، اور سردی بھی بڑھ چکی تھی، جنگل شروع ہوتے ہی ایک چھوٹا سا راستہ نیچے اترتا تھا جو تھوڑا ہی آگے جا کر بند ہو جاتا تھا، کہنے لگا ادھر موڑو موٹر سائیکل، میں نے کہا اس وقت مناسب نہیں کہنے لگا کوئی مسئلہ نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں ڈرو نہیں، خیر تھوڑا آگے جاتے ہی ایک سنسان جگہ پر جھاڑیوں کے پیچھے میں رک گیا ، وہ نیچے اترا اور مجھے بھی نیچے اُترنے کے لیے کہا، اس نے زور سے مجھے جپھی لگا کہ اور میرے ہونٹ بیتابی سے چوسنے لگ گیا، اس نے اپنی پینٹ نیچے کی آج اس نے انڈر وئیر بھی پہن رکھا تھا۔۔۔اور میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے سودے پر رکھ دیا ، میں ایک دم حیران پریشان، وہ ہنسنے لگا اور فخر سے کہنے لگا کیوں پھر۔۔۔ہے کہ نہیں بلا چیز۔۔۔کہنے لگا کہ جو بھی مرد یا عورت ایک بار میرا لن دیکھ اس کے وہ مجھے کبھی نہیں بھول سکتے۔۔۔۔یہ سچ تھا میں خود آج تک 9 سال پہلے کا وہ واقعہ نہیں بھولا۔۔۔کم از کم بھی 8 انچ سے لمبا اور انتہائی۔۔۔مطلب بہت موٹا۔۔۔پھر اس نے پینٹ اوپر کر لی اور میں نے کہا کہ "کام نہیں کرنا" کہنے لگا کہ مجھے بیڈ یا چارپائی کے علاؤہ مزہ نہیں آتا اور اتنی سردی میں گھر جاتے ہی نہا بھی نہیں سکتا۔

پھر ہم گھر کی طرف چل دیے، اس نے اپنی چادر اپنے ارد گرد پھیلا رکھی تھی میں نے کہا کہ پینٹ کی زپ کھولو اور میں ایک ہاتھ سے موٹر سائیکل چلا رہا تھا اور ایک ہاتھ سے اسکے ل کے ساتھ کھیل رہا تھا، میں نے پوچھا کہ یہ سیدھا کیوں نہیں ہو رہا ، کہنے لگا کہ اسے سیدھا ہونے کے لیے آرام دہ بستر اور آدھا گھنٹہ پیار چاہیے تب یہ بالکل ڈنڈا بن جائے گا مگر جب یہ ڈنڈا بن گیا تو میں ایک گھنٹہ فارغ نہیں ہوتا۔۔۔پھر وہ بتانے لگا کہ اسکی بیوی کی عمر 35 سال کے لگ بھگ ہے وہ آدھا گھنٹہ ہاتھوں سے اور منہ سے چوپے لگاتی ہے جب یہ سیدھا ہو جاتاہے تو پھر وہ تو آدھے گھنٹے میں چار پانچ بار فارغ ہو کر تنگ ہونے لگتی ہے پھر وہ مجھے فارغ ہونے کے لیے ترلے اور منتیں شروع کر دیتی ہے تب کہیں جا کر میں فارغ ہوتا ہوں کبھی کبھی تو 35 ، 40 منٹ گزر جاتے ہیں تو وہ نیچے رونا شروع کر دیتی ہے اور میں فارغ ہوئے بغیر ہی بس کر دیتا ہوں۔

پھر وہ خود ہی مجھے سودا ٹایٹ رکھنے اور بہترین سکس کرنے کی ٹپس دینے لگ گیا کہ ہفتے میں ایک بار سے زیادہ نہیں کرنا چاہیے خوراک کیا کھانی چاہیے وغیرہ وغیرہ۔۔۔میں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری بیوی اتنی ینگ عمر کی کیسے ہے؟ تو کہنے لگا کہ یہ میری چوتھی بیوی ہے۔۔۔میں نے حیرت سے پوچھا کیا؟؟ وہ کہنے لگا کہ ہاں چوتھی۔۔۔پہلی بیوی فوت ہو گئی تھی جب میری عمر تقریباً 48 سال تھی اس سے میرے 6 بچے ہیں، دوسر شادی میں نے فوراً ہی کر کی تھی کیونکہ میرا سیکس کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا۔۔۔دوسری بیوی 6 سال بعد فوت ہو گئی ایکسیڈنٹ میں اس وقت میری عمر 55 سال تھی، پھر میں نے شادی کر لی تیسری بیوی کو میں نے 2 سال بعد طلاق دے دی کیونکہ اسکی عمر مجھ سے بھی زیادہ تھی وہ دیکھنے میں تو بہت سیکسیی لگتی تھی مگر بستر پر بہت ٹھنڈی تھی، وہ یا تو اکثر بیمار رہتی یا پھر اسے میرے بڑے سودے سے تکلیف ہوتی اور وہ اکثر مجھے پورا اندر بھی نہیں کرنے دیتی تھی اور تکلیف سے رونا شروع کر دیتی، 2 سال میں نے برداشت کیا پھر میں نے اسے طلاق دے دی۔۔۔اب میرا گزارا نہیں ہوتا تھا، 6 میں سے 4 بچوں کی شادی ہو چکی تھی، میں دادا اور نانا بھی بن چکا تھا مگر مجھے ہوشیاری بہت آتی تھی، اپنی ہمسائی کے ساتھ کبھی کبھار موقع ملتا گاؤں کی ایک عورت گشتی مشہور تھی کبھی کبھار اس کے اندر پانی نکالتا۔۔وہ گشتی کہتی کہ بشیر مجھ سے نکاح کر لو جو مزہ تم دیتے ہو وہ کوئی اور نہیں دیتا۔۔۔میں نے اس سے کہا کہ تم سے نکاح ممکن نہیں میرے بچے مجھے گھر سے نکال دیں گے، بچوں کو بھی ہمسائی کے ساتھ تعلقات کا تھوڑا تھوڑا شک تھا اور میرے اپنے بیٹے میری پہلے جیسی عزت نہیں کرتے تھے پھر مجھے ایک پولیس والے نے بتایا کہ اسکے گاؤں میں کسی غریب فیملی کی لڑکی بیوہ ہو گئی ہے، تم چاہتے ہو تو میں تمہاری بات کروں، فیملی بہت زیادہ غریب ہے اور لڑکی بہت نیک اور خوبصورت۔۔۔۔میں نے کہا فوراً کرو، ساتھ ہی ساتھ مجھے اپنے گھر سے ٹینشن تھی ، جب میں نے اپنے بیٹوں سے بات کی تو حسب توقع انہیں نے مجھ سے لڑنا شروع کر دیا اور کہا کہ شادی کرنی ہے تو کرو مگر اُس لڑکی کو اس گھر میں نہیں لے کے آنا۔ خیر کچھ دنوں میں ہی میں خود بھی جا کر لڑکی کو دیکھ آیا اور اسکے گھر والوں سے بات پکی کر آیا ، اسی مہینے میں 2، 3 دوستوں کو لیکر گیا اور نکاح کر کیا، لڑکی کے گھر والوں نے بھی شکر کیا کہ چاہے بوڑھے کے ساتھ ہی سہی کسی ٹھکانے پر تو لگی ہے۔

بشیر نے بتایا کہ اسکی موجودہ بیوی کی عمر 32 سال تھی، جب میں نے پہلی رات اسکے ساتھ سیکس کیا تو وہ خوشی سے پاگل ہو گئی، واپس گھر جا کر میری تعریفیں ہی تعریفیں کرتی ہے کہ بہت اچھا ہے بہت خیال رکھتا ہے، میں نے پوچھا کہ اب وہ رہتی کہاں ہے وہ کہنے لگا کہ اسکے لیے میں نے شہر کے اندر کرائے پر گھر لیا ہوا ہے، بچوں کے ساتھ تعلقات اب ٹھیک ہیں اسلیے کل بھی تمہارے ساتھ گاؤں گیا تھا اور آج بھی، بیوی میری اپنے میکے گئی ہوئی ہے۔

اتنی دیر میں اسکا گاؤں آ گیا اندھیرا بہت زیادہ ہو چکا تھا اس نے نیچے اترنے ہی پھر ایک جپھی لگائی اور مجھے kiss کی۔ اس نے اپنا موبائل نمبر مجھے دیا اور میرا نمبر مجھ سے لیا اور کہنے لگا کہ کل میں نے ڈیوٹی پر نہیں جانا، گھر پر تھوڑا کام ہے، مگر شام کو تم میرے شہر والے گھر آ جانا، گھر پر کوئی نہیں ہو گا، دونوں تھوڑا ٹائم ساتھ گزاریں گے۔۔۔میں سمجھ گیا کہ چاچو بشیر کو فُل ہوشیاری چڑھی ہوئی ہے۔ وہ کہنے لگا کہ یار میرا دل تو کر رہا ہے آج ہی تمہیں لیکر شہر والے گھر چلا جاؤں اور ساری رات تمہارے ساتھ گزاروں، مگر آج گھر پر مہمان آئے ہوئے ہیں، میں نے کہا ایک بات زپ کھولو میں نے سارا ہاتھ میں پکڑنا ہے تو پیار سے کہنے لگا کہ یہ مناسب جگہ نہیں کل تم جتنی دیر مرضی کھیلنا اسکے ساتھ اب یہ تمہارا ہی ہے، میں مایوس ہو گیا اور دھیرے سے کہا ٹھیک ہے جیسے آپکی مرضی۔۔۔اس نے پھر ایک بار اپنے سینے کے ساتھ لگایا اور ہونٹ فرنچ کِس کر کے گاؤں کی طرف مُڑ گیا۔

(جاری ہے۔۔۔)