Anyone who Will find me on Twitter, just follow, share and msg me reference of Tumblr,

    جو جو ٹمبلر پر مجھے فالو کر رہا ہے ٹویٹر پر فالو کر کے ٹمبلر کا حوالہ دے دے، کہانیاں اب وہاں آیا کریں گی۔

    Mushtaq Ahmed… اپنی لڑکی والی آئ ڈی سے پھنسایا ہے.. ابھی بارگینگ چل رہی ہے… اگر بُنڈ دینے پر راضی ہو گیا تو اچھی بات… نہیں تو اسکی ساری تصویریں اور موبائل نمبر فیس بک آئ ڈی آپ سب دوستوں کو گفٹ کر دوں گا..

    لو پھر… وعدے کے مطابق اسکی فیس بک کا لنک سینڈ کر دی ہے… موج کرو اپنے بھائی کے ہوتے ہوئے. https://www.facebook.com/profile.php?id=100005354417364

    بشیر کانسٹیبل پرٹ 4 آخری حصہ

    کافی دیر ہم ایک دوسرے کے جسم کے ساتھ کھیلتے رہے، اسکی رانوں پر اور پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مجھے بہت مزہ آ رہا تھا، بشیر کہنے لگا کہ دوسری طرف منہ کرو اور اس نے مجھے پیچھے سے جپھی لگا کی، مجھے اپنی پیٹھ کے درمیان ٹچ کرتا ہوا اسکا لن بہت مزہ دے رہا تھا، اس نے ایک ٹانگ اور ایک بازو میرے اوپر رکھا تھا، اور دوسرا بازو میرے سر کے نیچے، میں خود کو مکمل طور پر اسکے قبضے میں محسوس کر رہا تھا، کافی دیر ایسے ہی پیار کرنے کے بعد وہ مجھے کہنے لگا کہ منہ میں کو۔۔میں نے کہا کہ نہیں یہ کام نہ میں نے کبھی کیا ہے اور نہ کروں گا، وہ کہنے لگا کہ چلو ٹھیک ہے، وہ سیدھا لیٹا تھا اور میں اسکے پٹوں کے اوپر ہمارے لن آپس میں ٹچ کر رہے تھے، میں اسکے پیٹ پر ہاتھ پھر رہا تھا، وہ آنکھیں بند کر کے کہنے لگا کہ میری ہمسائی بہت خوبصورت ہے اور سیکسی ہے، اسکے مموں کی نپل گلابی رنگ کی ہیں جو کہ پاکستانی عورتوں میں ہزار میں سے کسی ایک کی ہوتی ہیں، میں نے پوچھا اسکے ساتھ کیسے سیٹنگ ہوئی کوئی بھی بشیر کہنے لگا کہ ان دنوں میں اپنی دوسری بیوی کے چلے جانے کے بعد اکیلا تھا میرے سالے کی شادی تھی یعنی کہ میری پہلی بیوی کے بچوں کے ماموں کی میرا سب بچے وہاں جا رہے تھے جبکہ گھر میں کافی سامان پڑا تھا میں نے کہا کہ آپ لوگ مہندی والے رات کو چلے جائیں میں گھر پر ہوں گا اور برات والے دن صبح صبح آ جاؤں گا ڈیوٹی کے بعد شام کو چھ بجے گھر پہنچا تو تھوڑی دیر بعد میری ہمسائی نے ہمارا دروازہ کھٹکھٹایا وہ کہنے لگے بھائی جان آپ اکیلے ہیں تو کھانا ہمارے گھر سے کھا لیں، میں نے پہلےتو انکار کیا مگر وہ اصرار کرنے لگی کہ نہیں میں کھانا لیکر آ جاتی ہوں، میں نے کہا کہ چلیں میں آپکے گھر ہی آ کر کھا لوں گا، وہ گھر میں اکیلی تھی، اسکا شوہر سعودی عرب رہتا تھا جبکہ ساس اپنی بیٹی کے گئی ہوئی تھی، میں کپڑے بدل کر اسکے گھر گیا، اسکے 3 چھوٹے چھوٹے بچے تھے، اس نے اپنے ٹی وی لاؤنج میں مجھے بٹھا کر کھانا لگا دیا، پنک کلر کے سُوٹ میں وہ بہت ہی زیادہ سیکسی لگ رہی تھی، م ٹیبل پر کھانا رکھنے کے لیے وہ جھکی تو بے اختیار میری نظر اسکے مموں پر پڑی، دودھ جیسا سفید سینہ دیکھتے ہی میری حالت خراب ہو گئی، میں نے اسکے چہرے کی طرف دیکھا تو اسے محسوس ہو گیا کہ میں کہاں دیکھ رہا تھا وہ شرما گئی اور دوپٹا سیدھا کر کے چلی گئی تھوڑی دیر بعد وہ پانی رکھنے کے لئے آئی تو میں نے بے اختیار دیکھا حالانکہ میں شرمندہ بھی ہو رہا تھا پھر وہ پندرہ بیس منٹ کے بعد برتن اٹھانے کے لئے جھکی اور میری طرف دیکھنے لگی میں نے اس کی طرف دیکھا اور پھر بے اختیار اس کے سینے کی طرف دیکھنے لگ گیا وہ شرما گئی اور چلی گئی، پھر ہم تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے لگے اور میں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری ساس کہا ہے وہ کہنے لگی کہ ماں جی اپنی بیٹی کے ہاں گئے ہوئے ہیں دو دن کے لئے اور مجھے گھر میں اکیلے بہت ڈر لگتا ہے ہے میں نے کہا چلیں ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں میں ساتھ والے گھر میں موجود ہوں وہ کہنے لگی کہ بھائی جان بیٹھیں چائے پی کر جائیے گا اس وقت میرے ذہن میں بہت ساری باتیں چل رہی تھیں تھی اور میں مسلسل اس کی طرف دیکھے جا رہا تھا میں نے کہا کہ میں تھوڑی دیر بعد آکر چائے پی لوں گا میرا دل تھا کہ اس کے بچے سو جائیں وہ کہنے لگی ہے جیسے آپ کی مرضی دوبارہ اس کے گھر گیا تو اس نے ایک نیا سوٹ پہن رکھا تھا اور لگ رہا تھا کہ تھوڑا تھوڑا میک اپ بھی کیا ہوا ہے ہے میں نے پوچھا بچے کہاں ہیں تو وہ کہنے لگے کہ بچے تو سو چکے ہیں ہیں پھر وہ کچن میں چائے بنانے چلی گئی گی اب کی بار تو اب اس نے دوپٹہ نہیں لے رکھا تھا تھا سوٹ کا گلا پہلے سے بھی کھلا تھا، چائے رکھنے کے وہ ایک بار پھر میرے سامنے جھکی تو اب اسکے آدھے ممے نظر آ رہے تھے، جھکتے ہی وہ میری طرف دیکھنے لگی اور میں اسکی طرف، میں نے کہا اس سوٹ میں تو آپ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہی ہیں، وہ شرما گئی اور کہنے لگی ۔۔۔بس ایسے ہی چینج کر کیا، پتہ نہیں میرا دوپٹہ کہاں گیا ہے، وہ اٹھی تو میں نے کہا دوپٹہ رہنے دیں میں کونسا غیر ہوں، پھر وہ کہنے لگی کہ بھائی جان ایک بات پوچھوں اگر آپ غصہ نہیں کریں گے تو، وہ میں نے کہا پوچھو کوئی مسئلہ نہیں، بھائی جان آپ ماشاء اللہ سے خوبصورت ہیں جوانوں کی طرح صحت مند ہیں آپ بیوی کے بغیر کیسے گزارہ کر لیتے ہیں، میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ میں الحمداللہ جوانوں سے زیادہ جوان ہوں اندر سے، وہ شرما گئی اور ہنسنے لگی، تو میں نے پوچھا کہ تم شوہر کے بغیر کیسے رہتی ہو، وہ کہنے لگی کہ پردیس مجبوری ہے مگر میں کیسے رہتی ہوں وہ میں جانتی ہے یا میرا خدا، میں نے اسے کہا کہ ہم دونوں ہی ایک جیسے ہیں، میرے پاس بیوی نہیں اور تمہارے پاس شوہر نہیں، پھر وہ چُپ کر کے بیٹھ گئی۔

    میں چائے پی چکا تھا میں جانے کے لیے اٹھنے لگا تو وہ تڑپ کر کہنے لگی کہ بیٹھ جائیں ٹھوڑی دیر، میں نے کہا کہ اگر اکیلے ڈر لگ رہا ہے تو میں یہیں آپ کے گھر ہی سو جاتا ہوں، میں نے پیار سے اسکی طرف دیکھا تو اسکی نظریں جھکا لیں اور مدھم سی آواز میں کہا ۔۔۔پتہ نہیں، پھر وہ سوچ کر کہنے لگی کہ پتہ نہیں، زمانہ بڑا خراب ہے اور لوگ طرح طرح کی باتیں بنا لیتے ہیں، میں نے کہا چلو ٹھیک ہے تم میرا فون نمبر اپنے پاس رکھ لو اگر کوئی مسئلہ ہوا تو مجھے کال کر لینا وہ کہنے لگے چلیں ٹھیک ہے اس نے موبائل میں میرا نمبر ڈائل کیا اور میرے نمبر پر مس کال کی میں اپنے گھر آگیا کپڑے چینج کی ہے مگر میرا ذہن ابھی تک اس کے سینے پر اس کے ہونٹ اور اس کی آنکھوں پر تھا کافی دیر گزر گئی اور میں سونے کی تیاری کر رہا تھا کہ اچانک میرا موبائل بجا گیارہ بجے کا ٹائم تھا اور میری ہمسائی نے کہا بھائی جان مجھے ڈر لگ رہا ہے آپ ہمارے گھر آ کر سو جائیں میں نے کہا چلو ٹھیک ہے تم دروازہ کھولو میں آتا ہوں، میں اس کے دروازے پر پہنچا تو وہ دروازے کے پیچھے کھڑی تھی اور دروازہ کھلا تھا میں اندر گیا اس نے دروازے کو اندر سے لاک کیا اور کہنے لگے پتہ نہیں مجھے کیوں لگ رہا تھا کے قریب کافی اندھیرا تھا میں نے اس کا ہاتھ لگا کر کہنے لگا کہ کیوں آپ کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں میں ہوں ادھر ہر وہ میرے ساتھ چپک گئی اور تھوڑی دیر بعد شرما کر پیچھے ہٹ گئی پھر ہم ہم ٹی وی لاؤنج میں میں جا کر بیٹھ گئے گئے اس نے کہا کہ آپ دوسرے کمرے میں سو جائیں وہاں پر دو چارپائیاں پڑی تھی میںنے کہا کہ میں جب یہاں آیا ہوں تو آپ جہاں سوئے ہیں وہیں پر میں بھی سو جاؤں گا وہ کہنے لگی کہ نہیں دوسرے کمرے میں بچے ہیں آپ ساٹھ والےکمرے میں سو جائیں بھائی میں نے کہا چلو ٹھیک ہے وہ میرے پاس کمرے میں آ کر دوسری چارپائی پر بیٹھ گئی اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی میں نے کہا تھک چکا ہوں میری بیوی ہوتی تو مجھے دبا دیتی وہ کہنے لگی کوئی مسئلہ نہیں میں دبا دیتی ہوں اور میری چارپائی پر آکر بیٹھ گئی میں نے ایک دفعہ اوپر سے نہیں نہیں کہا، لیکن پھر وہ میری ٹانگیں دبانے لگی وہ صرف گھٹنوں تک دبا رہی تھی میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے پٹوں رکھا اور کہا نیچے سے بھی دباؤ او میں نے تہمت پہن رکھا تھا اور میرا لن راڈ جیسا ہو چکا تھا، دباتے دباتے جیسے ہی اسکا ہاتھ میرے لن کے ساتھ لگا، وہ پیچھے ہٹ گئی کہ یہ کیا ہے، میں نے کہا کہ کوئی بات نہیں تم نہ اسکے نزدیک جاؤ، وہ اردگر گرد دبا رہی تھی، اور آہستہ آہستہ میرے پٹوں پر ہاتھ پھیر دیتی، اب وہ میرے لن کے اردگرد دبا رہی تھی اور میں آنکھیں بند کے آہستہ آہستہ آہ آہ آہ کی آوازیں نکال رہا تھا، وہ ہنستے ہوئے کہنے لگی کہ یہ آوازیں تو بند کریں، پھر اس نے ایک دو بار جان بوجھ کر لن کو ٹچ کیا، اب میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن رکھ دیا، اس نے جلدی سے میریئٹ لن کو اپنی میٹھی میں لے لیا اور جلدی سے اس پر ہاتھ پھیر کے سائز کا اندازہ لگایا، اور جان بوجھ کر شرما کر کہنے لگی چھوڑیں میں نے یہ کام نہیں کرنا، چھوڑیں بشیر پلیز۔۔۔کیا کر ریے ہیں، میں ایسی نہیں ہوں، وہ میرے لن پر مسلسل ہاتھ بھی پھیر رہی تھی اور صرف زبانی کوشش کر رہی تھی، میں نے جھکڑ کر اسے اپنے ساتھ لٹا لیا، اور اسے جپھی لگا کی۔ وہ خود کو چھڑانے کی بہت ہلکی سی کوشش کر رہے تھی مگر ایک ہاتھ سے میرا لن بھی پکڑ رکھا تھا۔

    میں اسکے اوپر لیٹ گیا اور اسکی ہونٹ چوسنے لگ گیا، ہم 1 منٹ تک ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے رہے پھر وہ شرما کے کہنے لگی، چھوڑیں مجھے پلیز چھوڑیں، میں چارپائی سے اترا اور اسے بھی اتار کر کھڑا کیا، اسے زور سے اپنے سینے سے لگا لیا، میرا لن اسکی پھدی کے اوپر تھا اور ہاتھ دونوں اسکی نرم لچکیلی گانڈ پر، میں نے اپنی قمیض اتاری اور اپنا تہمند بھی، ننگا لن دیکھتے ہی اس نے دونوں ہاتھوں سے میرا لن پکڑ لیا اور بیتابی سے مجھے kiss کرنے لگی، میں نے اسکے کپڑے اتارنے شروع کیے، اسکے بڑے بڑے ممے سامنے آتے ہی میں نے اسے چارپائی پر بٹھایا اور خود زمین پر بیٹھ کر اسکے ممے چوسنے لگ گیا، وہ بیتاب ہو رہی تھی، میں نے اسکی نِپل پر بائٹ کیا تو وہ آہ آہ کرنے لگی، پھر میں کھڑا ہو گیا وہ وہ بھی کھڑے ہو کر مجھ سے لپٹ گئی اور نے اسکے کندھوں پر زور دیکر اسے نیچے بٹھایا اور وہ میرے لن کو قریب سے دیکھنے لگی کہ یہ تو بہت بڑا ہے، آپکی بیویاں تو بہت خوشی قسمت تھیں، میں نے اپنا لن اسکے منہ میں ڈال دیا، پہلے تو وہ کن پر ایک kissکر کے پیچھے ہو گئی اور کہنے لگی کہ نہیں بس اتنا ہی، میں نے زبردستی لن اسکے منہ میں ڈال دیا، اب کی بار وہ مزے سے چوپے لگانے کے گئی، پھر وہ میرے ٹٹے چوسنے لگ گئی، پھر وہ خود ہی اٹھ کر چارپائی پر لیٹ گئی، میں اسکی ٹانگوں کے درمیان جا کر بیٹھ گیا اور اسکی پھدی پر ہاتھ پھیرنے لگا، وہ مزے سے آہ آہ کر رہی تھیں صاف لگ رہا تھا کہ جب میں کھانا کھا کر گیا تھا تو اسکے بعد اس نے پھدی کی تازہ شیو کی تھی، میں اسکے اوپر لیٹ گیا اور اسکے ممے چوسنے لگ گیا، اور کان اور ہونٹ چوس رہا تھا، وہ بیقرار ہو کر کہنے لگی، بس کرو پلیز اب اندر کرو میں فارغ ہونے والی ہوں، پلیز آہستہ آہستہ اندر کرنا آپکا بہت موٹا اور لمبا ہے، میں نے لن کی ٹوپی پر تھوک لگائی، وہ پہلے ہی ٹانگیں اٹھا کر انتظار کر رہی تھی میں نے آہستہ آہستہ اندر کرنا شروع کیا وہ درد اور مزے سے سر ادھر ادھر کر رہی تھی، میں نے پورا اندر کر کے چند جھٹکے ہی لگائے ہوں گے کہ وہ کہنے لگی تیز پلیز تیز۔۔۔زور سے کرو، اسکی دھکتی ہوئی پھدی میں میرا لن لوہے کے راڈ کی طرح چل رہا تھا، اس نے لمبی سانس کی، اور زور سے مجھے چُومنے لگ گئی، اسکی پھدی کے اندر کیچڑ بن چکا تھا وہ فارغ ہو گئی تھی، میں نے باہر نکالا اور اس نے کپڑے سے جلدی سے اپنی پھدی صاف کی اور میرا لن بھی، پھر خود ہی جلدی سے لن کو دوبارہ اندر ڈال لیا، میں اس سے زیادہ تجربہ کار تھا، میں آہستہ آہستہ جھٹکے لگا رہا تھا، وہ کہنے لگی پورا باہر نکال کے پھر اندر ڈالو، میں بار بار پورا باہر نکالتا اور ایک جھٹکے سے ایک دم اندر کرتا، وہ آہ کرتی، پھر میں نے اسے کہا کہ گھوڑی بن جاؤ، وہ گھوڑی بن گئی اور میں نے پھر اندر ڈال دیا، میں تیز تیز جھٹکے لگا رہا تھا، وہ کہنے لگی پلیز فارغ نہ ہونا، میں نے کہا میں ہونے والا ہوں، وہ جلدی سے پیچھے ہٹی، سیدھی لیٹ کر پھر ٹانگیں کھول دیں، میں نے اندر کیا اور میزائل کی سپیڈ سے جھٹکے مارنے لگا، ایک دم پورے کا پورا قیمتی مادہ میں نے اسکے اندر ڈال دیا، گرم گرم مادہ اندر محسوس ہوتے ہی وہ پر سکون ہو گئی، اور میں اسکے اوپر ہی لیٹ گیا، وہ میری کمر پر ہاتھ پھر رہی تھی اور مجھے چُومے ہی جا رہی تھی، پھر وہ کہنے لگی کہ آج جب آپ نے پہلی بار میری طرف دیکھا تھا مجھے سمجھ آ گئی تھی، میں اسی لیے کپڑے بدل کر آپکے لیے تیار ہو گئی تھی، وہ کہنے لگی کہ 50 سال کی عمر میں بھی آپ 25 سال سے زیادہ جوان ہیں، پھر ہم واش روم میں جا کر صفائی کی، اور سو گئے، میں صبح آذان کے وقت اٹھ کر اپنے گھر چلا گیا، 9 بجے کے قریب وہ بچوں کو سکول بھیج کر فارغ تھی اور مجھے ناشتے کے لیے بلانے آ گئی، ہم نے ناشتے کے بعد پھر ایک ٹرپ کیا، اب کی بار وہ زیادہ ایکٹو تھی، خود ہی چوپے لگا رہی تھی، اور اور اپنے ممے میرے منہ میں ڈال رہی تھی۔

    بشیر آنکھیں بند کر اپنی کہانی سنا رہا تھا اور میں اسکے لن اور ٹٹوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسکے سینے پر kiss کر رہا تھا، اسکا سودا ایک بار پھر راڈ بن چکا تھا، وہ کہنے لگا کہ الٹا لیٹو۔۔۔میں نے کہا میں لیٹتا ہوں مگر اوپر اوپر کرنا ہے میں نے نہ کبھی اندر کروایا ہے اور نہ مجھے شوق ہے، وہ پیار سے کہنے لگا کہ ٹینشن نہ کو میں آرام آرام سے اندر کروں گا اور تیل لگا لوں گا، مجھے پھر بھی ڈر لگا رہا تھا میں نے پھر بھی اندر کروانے سے انکار کیا تو وہ غصے ہو کر کہنے لگا کہ کیا شوق ہے پھر تمہیں؟ میں نے کہا بس رومانس کرنے کا، وہ مجھے اندر کروانے کے لیے منا رہا تھا اور میں مسلسل انکار کر رہا تھا، پھر وہ غصے سے لیٹ گیا اور کہنے لگا کہ جاؤ آج کے بعد میری تمہاری دوستی ختم ہے تم نے میرا دل توڑ دیا ہے ہے میں اس کے ساتھ چپک گیا اور اس کو منانے لگا لگا وہ کہنے لگا کیا فائدہ اتنی دیر اگر تھے لیٹنے کا اگر یہ کام نہیں کرنا تو میں نے کہا کہ میں یہ کام کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن اوپر اوپر سے سے وہ کہنے لگا کہ مجھے تو ایسے مزا نہیں آتا اور میں ایسے کروں گا بھی نہیں نہیں پھر ہم چپ کر کے تھوڑی دیر لیٹ گئے میں اس کو راضی کرنے کا کوئی طریقہ سوچ رہا تھا میں نے اسے کہا کہ چلیں میں آپ کو کو فل باڈی مساج کر دیتا ہوں وہ کہنے لگا کہ مجھے نہیں چاہیے تو میں اس کو کہا کہ بہت مزہ آئے گا تمہیں تمہاری ساری تھکاوٹ اتر جائے گی گی ہے وہ کہنے لگا کہ اچھا چلو ادھر الماری میں سے ایک پرانا کپڑا نکال کر لاؤ اور تیل بھی لے آؤ میں نے اس کے جسم پر تیل لگایا یا اور اسے مساج کرنے لگا لگا تقریباً آدھا گھنٹہ مساج کیا وہ کہنے لگا کہ واقعی مساج کا تو اس کام سے زیادہ مزہ ہے پھر میں نے اس کے لنڈ پر تیل لگایا یا اور ہلکی ہلکی مالش کرنے لگا لگا وہ بالکل سیدھا کھڑا تھا اور بیتاب ہو رہا تھا تھا، میں آہستہ آہستہ اسکی مٹھ مار رہا تھا، اور تیل لگا کر لن کو فل چکنا کیا اور پھر مٹھ مارنے لگا، اور لن گرم لوہے کی طرح دہکنے لگا تو وہ بھی تیز تیز سانسیں لینے لگا، آنکھیں بند کر کے مزہ کے رہا تھا، اچانک اسکے منہ سے ایک لمبی آہ ہ ہ ہ کی آواز نکلی اور اسکا قیمتی مادہ اسکے پیٹ بکھرا تھا، تھوڑی دیر میں مارتا رہا جب اسکا اسکا سودا بالکل ڈھیلا ہو گیا تو اس نے کہا ایک اور کپڑا کے کر آو، میں نے دوسرے کپڑے اسے اسے صاف کیا، اور کہا کہ میری بھی مٹھ مارو مجھے بھی فارغ ہونا ہے، وہ کہنے لگا کہ تم اپنی خود مار لو مجھ سے نہیں ہوتا، میں نے 2، بار ریکوئسٹ کی تو کہنے لگا کہ اچھا چلو واش روم میں، وہ میرے ساتھ کھڑا ہو گیا ایک ہاتھ اس نے میرے پیٹھ پر رکھا اور تھوک لگا کے میرے سوراخ پر انگی پھیرنے لگا اور دوسرے ہاتھ سے میری مٹھ مارنے کگا، مجھے زیادہ ٹائم نہیں لگا اور میں بھی فارغ ہو گیا، وہ میرا مادہ دیکھ کر کہنے لگا کہ تمہاری عمر میں میرا بھی اتنا زیادہ نکلتا تھا، پھر ہم نے غسل کیا اور آدھی رات کے قریب میں نے کہا کہ میں گھر جا رہا ہوں، وہ اصرار کرنے لگا کہ یہیں لیٹ جاؤ اب میں بھی تہمارے لیے آیا ہوں اور یہاں اکیلا کیا کروں گا۔ میں نے اصرار کیا کہ نہیں میں اپنے گھر ہی جاؤں گا، اور نے مجھے جپھی لگائی، فرنچ کِس کی اور جاتے ہوئے کہا کہ اب مجھے پتہ چل گیا ہے تم جس ٹائپ کے ہو، وہ کام تو تم نے کروانا نہیں کبھی کبھی آ کر مجھے فل باڈی مساج کر دیا کرو، میں وعدہ کیا کہ ٹھیک ہے اور میں اپنے گھر کو چل دیا۔

    اسکے بعد تقریباً 1 سال بعد اس نے ریٹائرمنٹ لے لی، میری زندگی اس دوران کئی نئے بوڑھے بابے آ رہے تھے اور جا رہے تھے، 1 سال کے دوران تقریباً 4، 5 بار میں نے بشیر کو مساج کیا، ہم دونوں نے ایک دوسرے کو ہاتھوں سے فارغ کیا مساج کے دوران وہ مجھے اپنے سیکس کی کہانیاں سناتا رہتا، اپنے گاؤں کی گشتی کے ساتھ سیٹنگ اور اسکی پھدی مارنے کی، 1 ، 2 بار لونڈے بازی کی، اور اپنی چاروں سہاگ رات کی کہانیاں سنائیں جو کہ بہت سنسنی خیز تھی

    پھر وہ اصرار کرنے لگا کہ کسی اٹھارہ، بیس سال کی کنواری لڑکی سے دوستی کرو اور اسے میرے گھر لے کر آؤ میں پولیس کی وردی میں اوپر سے اکیلے ہی چھاپہ مار کر تم دونوں کو پکڑوں گا اور پھر اسی بہانے میں بھی اس لڑکی کی پھدی مار لوں گا وہ کہنے لگا کہ چھٹی عمر کی لڑکی کی پھدی مارنے کو میرا بہت دل کرتاہے، میں نے اسکے منہ پر تو اس سے کہا کہ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔اسکے بعد اسکا اتنا گھٹیا اور گندہ پلان سن کر میں نے اسکی کبھی کال نہیں اٹھائی، ایک بار اسکی کال اٹھائی اور اسے کہا کہ آئندہ مجھے کال نہ کرنا، وہ کہنے لگا کہ تم نے وعدہ کیا تھا، میں نے کہا لن پر چڑھ گیا میرا وعدہ اور تو بھی، آئندہ مجھے کال کی تو گندی گالیاں نکالوں گا تمہیں، بوڑھا ہونے کی وجہ سے وہ ڈر گیا اور کبھی کال نہیں کی، ایک بار بازار میں آمنا سامنا ہوا تو ہم دونوں نے ایک دوسرے سے سلام لینا بھی گوارہ نہیں کیا۔

    (ختم شدہ)

    بشیر کانسٹبل پارٹ 3

    اگلے دن صبح سے ہی مجھے بشیر کو ملنے کی بیقراری شروع ہو گئی تھی، موبائل ہاتھ میں تھا کب اسکی کال آئے اور میں اسے بالکل ننگا لیٹا ہوا دیکھوں اسکے جسم پر پیار کروں، ناجانے بالکل ننگا لیٹا کر اسکا ل اور ٹٹے کیسے دکھتے ہوں گے، بار بار موبائل دیکھ رہا تھا، شام تک اسکی کال نہیں آئی، پھر میں نے سوچا کہ خود ہی اسے کال کروں، میں نے آفس کے لینڈ لائن سے اسے کال کی تو اسکے کسی بیٹے نے اٹھا کیا، میں نے کسی اور نام کا پوچھ کر کال بند کر دی، پھر مجھے مایوسی ہونے لگی اور بشیر پر غصہ بھی آنے لگا کہ نہیں ملنا تھا تو بتا ہی دیتے، خیر اس رات کو سوتے وقت مجھے شیاری چڑھی تو پھر میں نے خیالوں میں بہت زیادہ پیار کیا اُسے، اگلے دن پھر انتظار شروع، ہر کال پر دل دھڑکتا کہ یہ اُسی کی کال ہو گی۔ 12 بجے کے بعد میں نے ایک بار پھر ہمت کر کے اُسے کال ملائی تو پھر دھچکا لگا اب کی بار پھر کسی اور نے کال اٹینڈ کی، لیکن اب میرا انتظار جواب دے چکا تھا، میں نے اپنا نام اور آفس کا بتا کر کہا کہ بشیر صاحب سے بات کروائیں، اس نے کہا کہ وہ تو باہر نکلے ہیں، آتے ہیں تو آپکا میسج دے دوں گا۔ خیر پھر مجھے تھوڑی تسلی ہوئی، تقریباً 2 گھنٹے بعد موبائل کی بیل بجی تو سکرین پر نام دیکھتے ہی میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں، میں نے جلدی سے کال اٹینڈ کی، اپنے انتظار اور بیقراری کو قابو میں رکھتے ہوئے اسکا حال چال پوچھا، وہ کہنے لگا کہ میں مل کے بتاتا ہوں کہ کل کیوں نہیں کال کی، لیکن آج لازم ملتا ہوں تم سے، 4 بجے کے قریب کال کروں گا، تم تیار رہنا۔

    میں نے آفس سے جلدی جلدی چھٹی کی، ساڑھے تین بجے ہی اسکی کال آ گئی کہ مجھے میرے گاؤں سے پِک کر کو، اگر کسی نے پوچھا تو کہنا کہ تم فلاں فلاں جگہ جا رہے ہو، جیسے ہی اسکے گاؤں کے باہر پہنچا تو وہ پولیس یونیفارم میں سڑک کی طرف چلتے ہوئے آ رہا تھا، حسب معمول سلام لیا اور ایک نارمل سے جپھی لگائی، اب میں پریشان تھا کہ اس نے یونیفارم کیوں پہن رکھا ہے، وہ کہنے لگا کہ میں نے گھر میں بتایاہے کہ میں ڈیوٹی پر جا رہا ہوں رات کو وہیں رہوں گا۔ وہ خود ہی بتانے لگا کہ کل میری بیٹی کی منگنی تھی، گھر میں مہمان آئے تھے، کافی لیٹ فارغ ہوا تو کچھ مہمان ابھی بھی تھے، اسلیئے گھر سے نکل نہیں سکا، خیر ہم اسکے شہر والے گھر کی طرف چل دیے، شہر پہنچتے ہی اس نے پوچھا کہ کیا کھاؤ پیو گے، میں نے کہا کہ کچھ نہیں، لیکن وہ اصرار کرنے لگا کہ یہ ممکن نہیں تم میرے گھر آؤ اور میں تمہیں کچھ کھائے پیئے بغیر جانے دوں، مغرب کے قریب کا وقت ہو چکا تھا، ہم نے برگر اور سموسے لیے، اس نے اپنے لیے فروٹ چاٹ کی، کہنے لگا کہ کھانا 3 یا 4 گھنٹے کے بعد کھائیں گے، اسکے گھر پہنچے، چھوٹا سا گھر تھا 2 کمروں کا، بیوی اسکی میکے تھی، اس نے لائٹس وغیرہ آن کیں اور گیس ہیٹر نکال کر چلا دیا، میں نے پوچھا کہ تمہیں سردی زیادہ لگتی ہے اس نے بتایا کہ اندر میرے بہت گرمی ہے، لیکن یہ موسمی سردی تو لگتی ہے، ہیٹر آن کرنے کے بعد سیدھا میری طرف آیا اور بازو پھیلا دیے، ہم دونوں ترسے ہوئے عاشقوں کی طرح ایک دوسرے کی بانہوں میں گُم ہو گئے، اسکا قد مجھ سے کافی لمبا تھا، پھر اس نے میرے ہونٹ چُوسنے شروع کر دیے، اور میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرنے لگا، تقریباً 5 منٹ رومانس کرنے کے بعد ہم پیچھے ہٹے اور وہ بیڈ پر بیٹھ گیا جبکہ میں صوفے پر، پھر وہ اُٹھ کر کپڑے بدلنے لگا، اسکے کپڑے دوسرے کمرے میں تھے وہ وہاں بھی بدل سکتاتھا لیکن وہ تہمند لے کر آیا اور میرے سامنے ہی کپڑے اُتارنے شروع کر دیے، پہلے شرٹ ، پھر پینٹ ،پھر انڈر وئیر، میری حالت خراب ہوتی جا رہی تھی، میں اٹھا اور جا کر اسکے گلے لگ گیا، اسکی گردن کے دونوں طرف چُومنے لگا، اسکا لن ہاتھ میں پکڑا اور اسکے ٹٹوں کے ساتھ کھیلنے لگ گیا، 2 منٹ بعد اس نے مجھے پیچھے ہٹا دیا اور کہا بہت ٹائم ہے آرام سے تسلی سے، میرے تمہارے سامنے لیٹ جاؤ ں گا پھر تم اپنی مرضی سے ل اور ٹ کے ساتھ کھیلنا، اب جاؤ اور کچن میں سے برتن کے کر کھانے پینے والا سامان اس میں رکھ کر کے آؤ، میں نے شاپروں میں سے چیزیں نکالیں اور پلیٹوں میں ڈال کر لے آیا، ہم کھانے لگے، اور ساتھ ہی اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے وہ پوچھنے لگا کہ کب سے تمہیں یہ شوق ہے اور ابتک کتنے بندوں کے ساتھ کیا ہے، میں نے بتایا کہ شوق کا تو کچھ پتہ نہیں مگر تم دوسرے بندے ہو پہلے کے ساتھ تعلق ایک گھنٹے کا تھا، ہم ملے، ایک دوسرے کا پہچانا جگہ ڈھونڈی سیکس کیا اور بس۔۔۔وہ کہاں گیا پتہ نہیں، میری پریکٹیکل سیکس کی پہلی باری تھی شرم سے میرا اپنا کچھ دن تک بہت برا حال رہا، پھر اُس واقعے کے 2 مہینے بعد تم ملے ہو، بشیر کہنے لگا کہ میں نے اپنی زندگی میں جتنے لڑکوں کے ساتھ یہ تعلق رکھا ہے اُن میں تم سب سے ڈیسنٹ، سلجھے ہوئے اور عقلمند ہو، میں نے تمہارے آفس سے بھی تمہارے ریپوٹیشن چیک کی ہے، اسلئے تم پر اعتماد کر کے تمہیں اپنے گھر تک لے کے آیا ہوں، پھر میں نے اُس سے کچھ پرسنل سوال پوچھے جسکے اُس نے تقریباً سچ ہی جواب دیے، وہ کہنے لگا کہ دیکھو۔۔۔اب تمہارا تعلق میرے ساتھ ہے، اب تم صرف اور صرف میرے ہو، میں تمہاری ساری ضرورتوں کو پورا کروں گا، سیکس سے لے کر مالی ضروریات تک، میں نے کہا چاچو جان۔۔۔میں خود اچھی جاب کر رہا ہوں مال کی کوئی ضرورت نہیں، اور دل میں ہنس رہا تھا کہ جسکی خود چوتھی شادی ہے، اپنی ہمسائی اور محلے کی گشتی سب کو اپنے پانی سے سیراب کرتاہے، 62 سال کی عمر میں زنا اور لونڈے بازی جیسے شوق پالتا ہے وہ مجھے کہہ رہا ہے کہ میرے ہوتے ہوئے تم نے کسی اور کے ساتھ دوستی نہیں کرنی۔

    کھانا ختم ہو چکا تھا اور میں نے برتن کچن میں رکھے اور واپس کمرے میں آکر صوفے پر بیٹھ گیا وہ کہنے لگا کہ صوفے پر کیوں بیٹھے ہو ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو میں گیا اور بستر میں اس کے ساتھ گھس گیا جاتے ہیں ہم دونوں نے پھر ایک دوسرے کو اپنی باہوں میں لے لیا کافی دیر ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے اور گردن پر کس کرنے کے بعد بعد میں نے آہستہ آہستہ اس کے کپڑے اتارنے شروع کیے یے ہیٹر کافی دیر سے چلنے کی وجہ سے کمرہ گرم ہو چکا تھا، میں نے اسکی بنیان اور تہمند اتارے، وہ تسلی سے میرے سامنے لیٹا ہوا تھا، اسکا ل آدھا کھڑا تھا، وہ کہنے لگا کاش میری بیوی میرے پاس ہوتی تو میری ٹانگیں دبا دیتی، میں سمجھ گیا کہ بُڈھا مجھ سے خدمت کروانا چاہ رہا ہے، اسے دبانے کے علاؤہ اور کوئی چارہ نہیں تھا، لیکں حقیقت میں بوڑھے بابوں کو دبانے کا بھی اپنا مزہ ہے، اسی بہانے آپ انکی ٹانگوں کے درمیان لٹکے ہوئے اصل مال تک پہنچ سکتے ہیں، اور انکے لٹکے ہوئے ملائم رانوں پر ہاتھ پھیر سکتے ہیں، وہ بالکل ننگا میرے سامنے تھا، میں کبھی ٹانگیں دبانے لگا جاتا تو کبھی اسکے ل کے ساتھ کھیلنے لگ جاتا،

    تقریباً آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا پھر میں بھی کپڑے اتار کر اسکے ساتھ لیٹ گیا اور بستر اوپر کر لیا، ایک ہاتھ اسکی ٹانگوں کے درمیان 8 انچ کے لمبے اور موٹے اثاثے پر، اسکی پیٹ اور سینے پر چُومیاں کرتا ہوا اسکی گردن اور ہونٹوں تک پہنچ گیا۔

    (جاری ہے۔۔۔)

    یار اب ٹمںبلر کے علاوہ کونسی ایپلیکیشن ہے جس پر اڈلٹ فوٹوز اور ویڈیوز پوسٹ کر سکتے ہیں؟ بلاگر ویب سائٹ ہے بلاگز کے لیے مگر اسکی اینڈرائڈ ایپلیکیشن نہیں ہے، ویب سائٹ ہی ہے، کیا خیال ہے اُس پہ شِفٹ ہو جائیں ؟ کون کون فالو کر لے گا وہاں اگر میں یہ اکاؤنٹ بند کر دوں اور وہاں لکھنا شروع کر دوں؟

    بشیر کانسٹیبل پارٹ 2

    موٹر سائیکل چلتے ہی بشیر نے مجھے پیچھے سے زور سے جپھی لگا لی، اور میرے ہونٹوں پر ہاتھ پھیرنے لگا، میں نے کہا چھوڑو لوگ دیکھ رہے ہیں اردگرد، خیر پھر وہ پیار بھری باتیں کرنے لگا کہ کل رات سے میں تمہارے لیے بہت بیتاب تھا سارا دن مشکل سے گزرا کہ جب 5 ہوں اور میں بس سٹاپ پر تمہارا انتظار کروں، جیسے ہی جنگل والا راستہ شروع ہوا مغرب ہو چکی تھی، اور سردی بھی بڑھ چکی تھی، جنگل شروع ہوتے ہی ایک چھوٹا سا راستہ نیچے اترتا تھا جو تھوڑا ہی آگے جا کر بند ہو جاتا تھا، کہنے لگا ادھر موڑو موٹر سائیکل، میں نے کہا اس وقت مناسب نہیں کہنے لگا کوئی مسئلہ نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں ڈرو نہیں، خیر تھوڑا آگے جاتے ہی ایک سنسان جگہ پر جھاڑیوں کے پیچھے میں رک گیا ، وہ نیچے اترا اور مجھے بھی نیچے اُترنے کے لیے کہا، اس نے زور سے مجھے جپھی لگا کہ اور میرے ہونٹ بیتابی سے چوسنے لگ گیا، اس نے اپنی پینٹ نیچے کی آج اس نے انڈر وئیر بھی پہن رکھا تھا۔۔۔اور میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے سودے پر رکھ دیا ، میں ایک دم حیران پریشان، وہ ہنسنے لگا اور فخر سے کہنے لگا کیوں پھر۔۔۔ہے کہ نہیں بلا چیز۔۔۔کہنے لگا کہ جو بھی مرد یا عورت ایک بار میرا لن دیکھ اس کے وہ مجھے کبھی نہیں بھول سکتے۔۔۔۔یہ سچ تھا میں خود آج تک 9 سال پہلے کا وہ واقعہ نہیں بھولا۔۔۔کم از کم بھی 8 انچ سے لمبا اور انتہائی۔۔۔مطلب بہت موٹا۔۔۔پھر اس نے پینٹ اوپر کر لی اور میں نے کہا کہ "کام نہیں کرنا" کہنے لگا کہ مجھے بیڈ یا چارپائی کے علاؤہ مزہ نہیں آتا اور اتنی سردی میں گھر جاتے ہی نہا بھی نہیں سکتا۔

    پھر ہم گھر کی طرف چل دیے، اس نے اپنی چادر اپنے ارد گرد پھیلا رکھی تھی میں نے کہا کہ پینٹ کی زپ کھولو اور میں ایک ہاتھ سے موٹر سائیکل چلا رہا تھا اور ایک ہاتھ سے اسکے ل کے ساتھ کھیل رہا تھا، میں نے پوچھا کہ یہ سیدھا کیوں نہیں ہو رہا ، کہنے لگا کہ اسے سیدھا ہونے کے لیے آرام دہ بستر اور آدھا گھنٹہ پیار چاہیے تب یہ بالکل ڈنڈا بن جائے گا مگر جب یہ ڈنڈا بن گیا تو میں ایک گھنٹہ فارغ نہیں ہوتا۔۔۔پھر وہ بتانے لگا کہ اسکی بیوی کی عمر 35 سال کے لگ بھگ ہے وہ آدھا گھنٹہ ہاتھوں سے اور منہ سے چوپے لگاتی ہے جب یہ سیدھا ہو جاتاہے تو پھر وہ تو آدھے گھنٹے میں چار پانچ بار فارغ ہو کر تنگ ہونے لگتی ہے پھر وہ مجھے فارغ ہونے کے لیے ترلے اور منتیں شروع کر دیتی ہے تب کہیں جا کر میں فارغ ہوتا ہوں کبھی کبھی تو 35 ، 40 منٹ گزر جاتے ہیں تو وہ نیچے رونا شروع کر دیتی ہے اور میں فارغ ہوئے بغیر ہی بس کر دیتا ہوں۔

    پھر وہ خود ہی مجھے سودا ٹایٹ رکھنے اور بہترین سکس کرنے کی ٹپس دینے لگ گیا کہ ہفتے میں ایک بار سے زیادہ نہیں کرنا چاہیے خوراک کیا کھانی چاہیے وغیرہ وغیرہ۔۔۔میں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری بیوی اتنی ینگ عمر کی کیسے ہے؟ تو کہنے لگا کہ یہ میری چوتھی بیوی ہے۔۔۔میں نے حیرت سے پوچھا کیا؟؟ وہ کہنے لگا کہ ہاں چوتھی۔۔۔پہلی بیوی فوت ہو گئی تھی جب میری عمر تقریباً 48 سال تھی اس سے میرے 6 بچے ہیں، دوسر شادی میں نے فوراً ہی کر کی تھی کیونکہ میرا سیکس کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا۔۔۔دوسری بیوی 6 سال بعد فوت ہو گئی ایکسیڈنٹ میں اس وقت میری عمر 55 سال تھی، پھر میں نے شادی کر لی تیسری بیوی کو میں نے 2 سال بعد طلاق دے دی کیونکہ اسکی عمر مجھ سے بھی زیادہ تھی وہ دیکھنے میں تو بہت سیکسیی لگتی تھی مگر بستر پر بہت ٹھنڈی تھی، وہ یا تو اکثر بیمار رہتی یا پھر اسے میرے بڑے سودے سے تکلیف ہوتی اور وہ اکثر مجھے پورا اندر بھی نہیں کرنے دیتی تھی اور تکلیف سے رونا شروع کر دیتی، 2 سال میں نے برداشت کیا پھر میں نے اسے طلاق دے دی۔۔۔اب میرا گزارا نہیں ہوتا تھا، 6 میں سے 4 بچوں کی شادی ہو چکی تھی، میں دادا اور نانا بھی بن چکا تھا مگر مجھے ہوشیاری بہت آتی تھی، اپنی ہمسائی کے ساتھ کبھی کبھار موقع ملتا گاؤں کی ایک عورت گشتی مشہور تھی کبھی کبھار اس کے اندر پانی نکالتا۔۔وہ گشتی کہتی کہ بشیر مجھ سے نکاح کر لو جو مزہ تم دیتے ہو وہ کوئی اور نہیں دیتا۔۔۔میں نے اس سے کہا کہ تم سے نکاح ممکن نہیں میرے بچے مجھے گھر سے نکال دیں گے، بچوں کو بھی ہمسائی کے ساتھ تعلقات کا تھوڑا تھوڑا شک تھا اور میرے اپنے بیٹے میری پہلے جیسی عزت نہیں کرتے تھے پھر مجھے ایک پولیس والے نے بتایا کہ اسکے گاؤں میں کسی غریب فیملی کی لڑکی بیوہ ہو گئی ہے، تم چاہتے ہو تو میں تمہاری بات کروں، فیملی بہت زیادہ غریب ہے اور لڑکی بہت نیک اور خوبصورت۔۔۔۔میں نے کہا فوراً کرو، ساتھ ہی ساتھ مجھے اپنے گھر سے ٹینشن تھی ، جب میں نے اپنے بیٹوں سے بات کی تو حسب توقع انہیں نے مجھ سے لڑنا شروع کر دیا اور کہا کہ شادی کرنی ہے تو کرو مگر اُس لڑکی کو اس گھر میں نہیں لے کے آنا۔ خیر کچھ دنوں میں ہی میں خود بھی جا کر لڑکی کو دیکھ آیا اور اسکے گھر والوں سے بات پکی کر آیا ، اسی مہینے میں 2، 3 دوستوں کو لیکر گیا اور نکاح کر کیا، لڑکی کے گھر والوں نے بھی شکر کیا کہ چاہے بوڑھے کے ساتھ ہی سہی کسی ٹھکانے پر تو لگی ہے۔

    بشیر نے بتایا کہ اسکی موجودہ بیوی کی عمر 32 سال تھی، جب میں نے پہلی رات اسکے ساتھ سیکس کیا تو وہ خوشی سے پاگل ہو گئی، واپس گھر جا کر میری تعریفیں ہی تعریفیں کرتی ہے کہ بہت اچھا ہے بہت خیال رکھتا ہے، میں نے پوچھا کہ اب وہ رہتی کہاں ہے وہ کہنے لگا کہ اسکے لیے میں نے شہر کے اندر کرائے پر گھر لیا ہوا ہے، بچوں کے ساتھ تعلقات اب ٹھیک ہیں اسلیے کل بھی تمہارے ساتھ گاؤں گیا تھا اور آج بھی، بیوی میری اپنے میکے گئی ہوئی ہے۔

    اتنی دیر میں اسکا گاؤں آ گیا اندھیرا بہت زیادہ ہو چکا تھا اس نے نیچے اترنے ہی پھر ایک جپھی لگائی اور مجھے kiss کی۔ اس نے اپنا موبائل نمبر مجھے دیا اور میرا نمبر مجھ سے لیا اور کہنے لگا کہ کل میں نے ڈیوٹی پر نہیں جانا، گھر پر تھوڑا کام ہے، مگر شام کو تم میرے شہر والے گھر آ جانا، گھر پر کوئی نہیں ہو گا، دونوں تھوڑا ٹائم ساتھ گزاریں گے۔۔۔میں سمجھ گیا کہ چاچو بشیر کو فُل ہوشیاری چڑھی ہوئی ہے۔ وہ کہنے لگا کہ یار میرا دل تو کر رہا ہے آج ہی تمہیں لیکر شہر والے گھر چلا جاؤں اور ساری رات تمہارے ساتھ گزاروں، مگر آج گھر پر مہمان آئے ہوئے ہیں، میں نے کہا ایک بات زپ کھولو میں نے سارا ہاتھ میں پکڑنا ہے تو پیار سے کہنے لگا کہ یہ مناسب جگہ نہیں کل تم جتنی دیر مرضی کھیلنا اسکے ساتھ اب یہ تمہارا ہی ہے، میں مایوس ہو گیا اور دھیرے سے کہا ٹھیک ہے جیسے آپکی مرضی۔۔۔اس نے پھر ایک بار اپنے سینے کے ساتھ لگایا اور ہونٹ فرنچ کِس کر کے گاؤں کی طرف مُڑ گیا۔

    (جاری ہے۔۔۔)

    62 سالہ بشیر کانسٹیبل کے ساتھ

    یہ اُن دنوں کا واقعہ ہے جب میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی میں جاب کرتا تھا، میرا آفس میرے گھر سے تقریباً 25 کلومیٹر دور تھا، راستے میں ایک بیلا بھی آتا تھا یعنی کہ چھوٹا سارا جنگل۔

    اُنہی دنوں مجھے بُڈھے بابوں کا نیا نیا پریکٹیکل تجربہ شروع ہوا تھا حالانکہ یہ خواہش بہت پہلے سے تھی مگر ڈر، شرم عزت جانے کا خوف یا سمجھ لیں کہ موقع نہ ملنے پر کبھی پریکٹیکل سیکس کیا نہیں تھا، خیالوں میں روز اپنے محلے کے 2 بُڈھے جو مجھے پسند تھے انکے ساتھ سیکس کرتا تھا، انکے خیال میں مُٹھ بھی کبھی کبھی مار لیتا تھا، رات کو سوتے وقت خیالوں میں انہیں جپھیاں لگانا انہیں پیار کرنا انکے ل کے ساتھ کھیلنا یہ معمول کی بات تھی ان دونوں کے ساتھ خیالی سیکس کیے بغیر نیند ہی نہیں آتی تھی۔

    بشیر ایک ایک ساٹھ سال کا بوڑھا آدمی تھا جو کہ پولیس میں جاب کرتا تھا تھا وہ بھی روز میری طرح ایک شہر سے دوسرے شہر جاتا عطا وہیں جاب کرتا اور اس کا گاؤں میرے گاؤں سے 3 یا 4 گاؤں چھوڑ کر آگے تھا، اس سے پہلے کئی بار میں اسے دیکھ چکا تھا مگر اس کے بارے کبھی ایسا سوچا نہیں تھا، ساڑھے چھ فٹ قد، چوڑا سینہ، گندمی رنگ، پتلے ہونٹ اور ناک ہر وقت تازہ شیو اور چھوٹی چھوٹی مونچھیں، عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے کندھے تھوڑے جھک گئے تھے، سردیوں کے دن تھے پولیس یونیفارم کے اوپر براؤن کلر کی چادر اوڑھ لیتا تھا چُھٹی کے بعد۔

    ایک دن میں ساڑھے پانچ بجے چُٹھی کر کے نکلا تو وہ بس سٹاپ پر کھڑا تھا، کسی مسئلے کی وجہ سے ٹریفک ہڑتال تھی اُس نے مجھے لفٹ کا اشارہ کیا ، میں رُکا اور اس نے کہا بیٹا کہاں جا رہے ہو، بس نہیں مل رہی پلیز مجھے فلاں فلاں جگہ تک بٹھا لو، میں نے کہا کوئی بات نہیں میں اُدھر ہی جا رہا ہوں میں اتار دوں گا آپ کو ۔۔ وہ بیٹھ گیا اور ہم چل دیے، راستے میں ہم دونوں باتیں کرتے جا رہے تھے وہ مجھ سے تعارفی سوال پوچھے جا رہا تھا کہ کیا نام ہے، کہاں رہتے ہو، کب سے یہاں جاب کر رہے ہو اور اپنا بھی ساتھ ساتھ بتائے جا رہا تھا، 15 منٹ تک میرے ذہن میں کوئی گندہ خیال نہیں آیا، تھوڑی دیر بعد باتیں ختم ہو گئیں اور سڑک بھی جنگل میں داخل ہو گئی۔

    ٹریفک نہ ہونے کی وجہ سے سڑک بالکل سنسان تھی، تو اچانک میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ اسے چیک کیا جائے، میں نے اسے کہا لگتا ہے پچھلے ٹائر میں ہوا کم ہے تھوڑا آگے ہو کر بیٹھ جائیں، وہ تھوڑا آگے ہو گیا، پھر میں نے اپنی پیٹھ پیچھے کھسکا کر اسکے سودے کے ساتھ ملا دی، پھر آگے کر لی، پھر میں نے اسے کہا کہ چاچو تھوڑا آگے ہو جائیں، پولیس والا تھا ایک ہی بار میں سمجھ گیا تھا اب کی بار وہ فُل آگے ہو گیا اور اپنا سودا میرے بالکل ساتھ لگا دیا، ل تو اسکا سو رہا تھا مجھے بالکل محسوس نہیں ہوا پہلے پھر جب میں نے سیدھا ہو کر بیٹھنے کے بہانے اپنی گانڈ اسکے سودے کے رگڑی تو وہ بھی مجھے محسوس ہونےلگا، اس نے اپنے ہاتھ میری کمر کے اردگرد رکھ لیے، ہم دونوں کوئی بات نہیں کر رہے تھے اتنی دیر میں اسکا گاؤں آ گیا وہ نیچے اترا، اپنی چادر اٹھائی تو اس نے مجھے صاف پتہ چل رہا تھا کہ اس نے انڈر وئیر نہیں پہن رکھا تھا، اس نے مجھے گلے لگایا اور ہاتھ دبا کر سلام کیا میرا شکریہ ادا کیا اور اپنے گاؤں داخل ہو گیا۔

    اگلے دن اسی ٹائم پر پھر وہ بس سٹاپ پر کھڑا تھا، مجھے دیکھتے ہی جلدی جلدی سڑک پر آ کر اس نے مجھے اشارہ کیا، اُس دن ٹریفک چل رہی تھی، میں نے پوچھا کیا بات ہے گاڑی نہیں ملی؟ تو چاچو بشیر کہنے لگے کہ "گاڑیاں تو دو تین میں نے گُزار دیں ہیں، میں تو تمہارے انتظار میں کھڑا تھا" اسکے بعد وہ ڈائریکٹ ہی فُل آگے ہو کر بیٹھ گیا اور بیٹھتے ہی اپنے ہاتھ میری کمر کے اردگرد رکھ لیے۔

    (۔۔۔۔۔۔جاری ہے)

    ویک اینڈ ہو اور آپکا پسندیدہ بُڈھا جانو آپکے ساتھ کسی رومانٹک سی جگہ پر ڈنر کر رہا ہو... اسکے بعد ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر نیم اندھیرے روڈ پر واک کرنی ہو جب واک کے دوران ہی آپ اسکے ہاتھ کو بار بار مسلیں... اسکی انگلیوں میں اپنی انگلیاں ڈال کر اسکا ہاتھ اپنے سینے پر لگائیں، پھر رات گئے واپس دونوں کمرے میں آئیں، ایک ہی بستر پر کپڑے اتار کر رضائی کے اندر ننگے، ایک دوسرے کو اپنی بانہوں میں لپیٹ کر، ایک دوسرے کے ہونٹ چُوستے ہوئے "گُم ہو جائیں"