بشیر کانسٹبل پارٹ 3

اگلے دن صبح سے ہی مجھے بشیر کو ملنے کی بیقراری شروع ہو گئی تھی، موبائل ہاتھ میں تھا کب اسکی کال آئے اور میں اسے بالکل ننگا لیٹا ہوا دیکھوں اسکے جسم پر پیار کروں، ناجانے بالکل ننگا لیٹا کر اسکا ل اور ٹٹے کیسے دکھتے ہوں گے، بار بار موبائل دیکھ رہا تھا، شام تک اسکی کال نہیں آئی، پھر میں نے سوچا کہ خود ہی اسے کال کروں، میں نے آفس کے لینڈ لائن سے اسے کال کی تو اسکے کسی بیٹے نے اٹھا کیا، میں نے کسی اور نام کا پوچھ کر کال بند کر دی، پھر مجھے مایوسی ہونے لگی اور بشیر پر غصہ بھی آنے لگا کہ نہیں ملنا تھا تو بتا ہی دیتے، خیر اس رات کو سوتے وقت مجھے شیاری چڑھی تو پھر میں نے خیالوں میں بہت زیادہ پیار کیا اُسے، اگلے دن پھر انتظار شروع، ہر کال پر دل دھڑکتا کہ یہ اُسی کی کال ہو گی۔ 12 بجے کے بعد میں نے ایک بار پھر ہمت کر کے اُسے کال ملائی تو پھر دھچکا لگا اب کی بار پھر کسی اور نے کال اٹینڈ کی، لیکن اب میرا انتظار جواب دے چکا تھا، میں نے اپنا نام اور آفس کا بتا کر کہا کہ بشیر صاحب سے بات کروائیں، اس نے کہا کہ وہ تو باہر نکلے ہیں، آتے ہیں تو آپکا میسج دے دوں گا۔ خیر پھر مجھے تھوڑی تسلی ہوئی، تقریباً 2 گھنٹے بعد موبائل کی بیل بجی تو سکرین پر نام دیکھتے ہی میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں، میں نے جلدی سے کال اٹینڈ کی، اپنے انتظار اور بیقراری کو قابو میں رکھتے ہوئے اسکا حال چال پوچھا، وہ کہنے لگا کہ میں مل کے بتاتا ہوں کہ کل کیوں نہیں کال کی، لیکن آج لازم ملتا ہوں تم سے، 4 بجے کے قریب کال کروں گا، تم تیار رہنا۔

میں نے آفس سے جلدی جلدی چھٹی کی، ساڑھے تین بجے ہی اسکی کال آ گئی کہ مجھے میرے گاؤں سے پِک کر کو، اگر کسی نے پوچھا تو کہنا کہ تم فلاں فلاں جگہ جا رہے ہو، جیسے ہی اسکے گاؤں کے باہر پہنچا تو وہ پولیس یونیفارم میں سڑک کی طرف چلتے ہوئے آ رہا تھا، حسب معمول سلام لیا اور ایک نارمل سے جپھی لگائی، اب میں پریشان تھا کہ اس نے یونیفارم کیوں پہن رکھا ہے، وہ کہنے لگا کہ میں نے گھر میں بتایاہے کہ میں ڈیوٹی پر جا رہا ہوں رات کو وہیں رہوں گا۔ وہ خود ہی بتانے لگا کہ کل میری بیٹی کی منگنی تھی، گھر میں مہمان آئے تھے، کافی لیٹ فارغ ہوا تو کچھ مہمان ابھی بھی تھے، اسلیئے گھر سے نکل نہیں سکا، خیر ہم اسکے شہر والے گھر کی طرف چل دیے، شہر پہنچتے ہی اس نے پوچھا کہ کیا کھاؤ پیو گے، میں نے کہا کہ کچھ نہیں، لیکن وہ اصرار کرنے لگا کہ یہ ممکن نہیں تم میرے گھر آؤ اور میں تمہیں کچھ کھائے پیئے بغیر جانے دوں، مغرب کے قریب کا وقت ہو چکا تھا، ہم نے برگر اور سموسے لیے، اس نے اپنے لیے فروٹ چاٹ کی، کہنے لگا کہ کھانا 3 یا 4 گھنٹے کے بعد کھائیں گے، اسکے گھر پہنچے، چھوٹا سا گھر تھا 2 کمروں کا، بیوی اسکی میکے تھی، اس نے لائٹس وغیرہ آن کیں اور گیس ہیٹر نکال کر چلا دیا، میں نے پوچھا کہ تمہیں سردی زیادہ لگتی ہے اس نے بتایا کہ اندر میرے بہت گرمی ہے، لیکن یہ موسمی سردی تو لگتی ہے، ہیٹر آن کرنے کے بعد سیدھا میری طرف آیا اور بازو پھیلا دیے، ہم دونوں ترسے ہوئے عاشقوں کی طرح ایک دوسرے کی بانہوں میں گُم ہو گئے، اسکا قد مجھ سے کافی لمبا تھا، پھر اس نے میرے ہونٹ چُوسنے شروع کر دیے، اور میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرنے لگا، تقریباً 5 منٹ رومانس کرنے کے بعد ہم پیچھے ہٹے اور وہ بیڈ پر بیٹھ گیا جبکہ میں صوفے پر، پھر وہ اُٹھ کر کپڑے بدلنے لگا، اسکے کپڑے دوسرے کمرے میں تھے وہ وہاں بھی بدل سکتاتھا لیکن وہ تہمند لے کر آیا اور میرے سامنے ہی کپڑے اُتارنے شروع کر دیے، پہلے شرٹ ، پھر پینٹ ،پھر انڈر وئیر، میری حالت خراب ہوتی جا رہی تھی، میں اٹھا اور جا کر اسکے گلے لگ گیا، اسکی گردن کے دونوں طرف چُومنے لگا، اسکا لن ہاتھ میں پکڑا اور اسکے ٹٹوں کے ساتھ کھیلنے لگ گیا، 2 منٹ بعد اس نے مجھے پیچھے ہٹا دیا اور کہا بہت ٹائم ہے آرام سے تسلی سے، میرے تمہارے سامنے لیٹ جاؤ ں گا پھر تم اپنی مرضی سے ل اور ٹ کے ساتھ کھیلنا، اب جاؤ اور کچن میں سے برتن کے کر کھانے پینے والا سامان اس میں رکھ کر کے آؤ، میں نے شاپروں میں سے چیزیں نکالیں اور پلیٹوں میں ڈال کر لے آیا، ہم کھانے لگے، اور ساتھ ہی اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے وہ پوچھنے لگا کہ کب سے تمہیں یہ شوق ہے اور ابتک کتنے بندوں کے ساتھ کیا ہے، میں نے بتایا کہ شوق کا تو کچھ پتہ نہیں مگر تم دوسرے بندے ہو پہلے کے ساتھ تعلق ایک گھنٹے کا تھا، ہم ملے، ایک دوسرے کا پہچانا جگہ ڈھونڈی سیکس کیا اور بس۔۔۔وہ کہاں گیا پتہ نہیں، میری پریکٹیکل سیکس کی پہلی باری تھی شرم سے میرا اپنا کچھ دن تک بہت برا حال رہا، پھر اُس واقعے کے 2 مہینے بعد تم ملے ہو، بشیر کہنے لگا کہ میں نے اپنی زندگی میں جتنے لڑکوں کے ساتھ یہ تعلق رکھا ہے اُن میں تم سب سے ڈیسنٹ، سلجھے ہوئے اور عقلمند ہو، میں نے تمہارے آفس سے بھی تمہارے ریپوٹیشن چیک کی ہے، اسلئے تم پر اعتماد کر کے تمہیں اپنے گھر تک لے کے آیا ہوں، پھر میں نے اُس سے کچھ پرسنل سوال پوچھے جسکے اُس نے تقریباً سچ ہی جواب دیے، وہ کہنے لگا کہ دیکھو۔۔۔اب تمہارا تعلق میرے ساتھ ہے، اب تم صرف اور صرف میرے ہو، میں تمہاری ساری ضرورتوں کو پورا کروں گا، سیکس سے لے کر مالی ضروریات تک، میں نے کہا چاچو جان۔۔۔میں خود اچھی جاب کر رہا ہوں مال کی کوئی ضرورت نہیں، اور دل میں ہنس رہا تھا کہ جسکی خود چوتھی شادی ہے، اپنی ہمسائی اور محلے کی گشتی سب کو اپنے پانی سے سیراب کرتاہے، 62 سال کی عمر میں زنا اور لونڈے بازی جیسے شوق پالتا ہے وہ مجھے کہہ رہا ہے کہ میرے ہوتے ہوئے تم نے کسی اور کے ساتھ دوستی نہیں کرنی۔

کھانا ختم ہو چکا تھا اور میں نے برتن کچن میں رکھے اور واپس کمرے میں آکر صوفے پر بیٹھ گیا وہ کہنے لگا کہ صوفے پر کیوں بیٹھے ہو ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو میں گیا اور بستر میں اس کے ساتھ گھس گیا جاتے ہیں ہم دونوں نے پھر ایک دوسرے کو اپنی باہوں میں لے لیا کافی دیر ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے اور گردن پر کس کرنے کے بعد بعد میں نے آہستہ آہستہ اس کے کپڑے اتارنے شروع کیے یے ہیٹر کافی دیر سے چلنے کی وجہ سے کمرہ گرم ہو چکا تھا، میں نے اسکی بنیان اور تہمند اتارے، وہ تسلی سے میرے سامنے لیٹا ہوا تھا، اسکا ل آدھا کھڑا تھا، وہ کہنے لگا کاش میری بیوی میرے پاس ہوتی تو میری ٹانگیں دبا دیتی، میں سمجھ گیا کہ بُڈھا مجھ سے خدمت کروانا چاہ رہا ہے، اسے دبانے کے علاؤہ اور کوئی چارہ نہیں تھا، لیکں حقیقت میں بوڑھے بابوں کو دبانے کا بھی اپنا مزہ ہے، اسی بہانے آپ انکی ٹانگوں کے درمیان لٹکے ہوئے اصل مال تک پہنچ سکتے ہیں، اور انکے لٹکے ہوئے ملائم رانوں پر ہاتھ پھیر سکتے ہیں، وہ بالکل ننگا میرے سامنے تھا، میں کبھی ٹانگیں دبانے لگا جاتا تو کبھی اسکے ل کے ساتھ کھیلنے لگ جاتا،

تقریباً آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا پھر میں بھی کپڑے اتار کر اسکے ساتھ لیٹ گیا اور بستر اوپر کر لیا، ایک ہاتھ اسکی ٹانگوں کے درمیان 8 انچ کے لمبے اور موٹے اثاثے پر، اسکی پیٹ اور سینے پر چُومیاں کرتا ہوا اسکی گردن اور ہونٹوں تک پہنچ گیا۔

(جاری ہے۔۔۔)