بشیر کانسٹیبل پرٹ 4 آخری حصہ

کافی دیر ہم ایک دوسرے کے جسم کے ساتھ کھیلتے رہے، اسکی رانوں پر اور پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مجھے بہت مزہ آ رہا تھا، بشیر کہنے لگا کہ دوسری طرف منہ کرو اور اس نے مجھے پیچھے سے جپھی لگا کی، مجھے اپنی پیٹھ کے درمیان ٹچ کرتا ہوا اسکا لن بہت مزہ دے رہا تھا، اس نے ایک ٹانگ اور ایک بازو میرے اوپر رکھا تھا، اور دوسرا بازو میرے سر کے نیچے، میں خود کو مکمل طور پر اسکے قبضے میں محسوس کر رہا تھا، کافی دیر ایسے ہی پیار کرنے کے بعد وہ مجھے کہنے لگا کہ منہ میں کو۔۔میں نے کہا کہ نہیں یہ کام نہ میں نے کبھی کیا ہے اور نہ کروں گا، وہ کہنے لگا کہ چلو ٹھیک ہے، وہ سیدھا لیٹا تھا اور میں اسکے پٹوں کے اوپر ہمارے لن آپس میں ٹچ کر رہے تھے، میں اسکے پیٹ پر ہاتھ پھر رہا تھا، وہ آنکھیں بند کر کے کہنے لگا کہ میری ہمسائی بہت خوبصورت ہے اور سیکسی ہے، اسکے مموں کی نپل گلابی رنگ کی ہیں جو کہ پاکستانی عورتوں میں ہزار میں سے کسی ایک کی ہوتی ہیں، میں نے پوچھا اسکے ساتھ کیسے سیٹنگ ہوئی کوئی بھی بشیر کہنے لگا کہ ان دنوں میں اپنی دوسری بیوی کے چلے جانے کے بعد اکیلا تھا میرے سالے کی شادی تھی یعنی کہ میری پہلی بیوی کے بچوں کے ماموں کی میرا سب بچے وہاں جا رہے تھے جبکہ گھر میں کافی سامان پڑا تھا میں نے کہا کہ آپ لوگ مہندی والے رات کو چلے جائیں میں گھر پر ہوں گا اور برات والے دن صبح صبح آ جاؤں گا ڈیوٹی کے بعد شام کو چھ بجے گھر پہنچا تو تھوڑی دیر بعد میری ہمسائی نے ہمارا دروازہ کھٹکھٹایا وہ کہنے لگے بھائی جان آپ اکیلے ہیں تو کھانا ہمارے گھر سے کھا لیں، میں نے پہلےتو انکار کیا مگر وہ اصرار کرنے لگی کہ نہیں میں کھانا لیکر آ جاتی ہوں، میں نے کہا کہ چلیں میں آپکے گھر ہی آ کر کھا لوں گا، وہ گھر میں اکیلی تھی، اسکا شوہر سعودی عرب رہتا تھا جبکہ ساس اپنی بیٹی کے گئی ہوئی تھی، میں کپڑے بدل کر اسکے گھر گیا، اسکے 3 چھوٹے چھوٹے بچے تھے، اس نے اپنے ٹی وی لاؤنج میں مجھے بٹھا کر کھانا لگا دیا، پنک کلر کے سُوٹ میں وہ بہت ہی زیادہ سیکسی لگ رہی تھی، م ٹیبل پر کھانا رکھنے کے لیے وہ جھکی تو بے اختیار میری نظر اسکے مموں پر پڑی، دودھ جیسا سفید سینہ دیکھتے ہی میری حالت خراب ہو گئی، میں نے اسکے چہرے کی طرف دیکھا تو اسے محسوس ہو گیا کہ میں کہاں دیکھ رہا تھا وہ شرما گئی اور دوپٹا سیدھا کر کے چلی گئی تھوڑی دیر بعد وہ پانی رکھنے کے لئے آئی تو میں نے بے اختیار دیکھا حالانکہ میں شرمندہ بھی ہو رہا تھا پھر وہ پندرہ بیس منٹ کے بعد برتن اٹھانے کے لئے جھکی اور میری طرف دیکھنے لگی میں نے اس کی طرف دیکھا اور پھر بے اختیار اس کے سینے کی طرف دیکھنے لگ گیا وہ شرما گئی اور چلی گئی، پھر ہم تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے لگے اور میں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری ساس کہا ہے وہ کہنے لگی کہ ماں جی اپنی بیٹی کے ہاں گئے ہوئے ہیں دو دن کے لئے اور مجھے گھر میں اکیلے بہت ڈر لگتا ہے ہے میں نے کہا چلیں ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں میں ساتھ والے گھر میں موجود ہوں وہ کہنے لگی کہ بھائی جان بیٹھیں چائے پی کر جائیے گا اس وقت میرے ذہن میں بہت ساری باتیں چل رہی تھیں تھی اور میں مسلسل اس کی طرف دیکھے جا رہا تھا میں نے کہا کہ میں تھوڑی دیر بعد آکر چائے پی لوں گا میرا دل تھا کہ اس کے بچے سو جائیں وہ کہنے لگی ہے جیسے آپ کی مرضی دوبارہ اس کے گھر گیا تو اس نے ایک نیا سوٹ پہن رکھا تھا اور لگ رہا تھا کہ تھوڑا تھوڑا میک اپ بھی کیا ہوا ہے ہے میں نے پوچھا بچے کہاں ہیں تو وہ کہنے لگے کہ بچے تو سو چکے ہیں ہیں پھر وہ کچن میں چائے بنانے چلی گئی گی اب کی بار تو اب اس نے دوپٹہ نہیں لے رکھا تھا تھا سوٹ کا گلا پہلے سے بھی کھلا تھا، چائے رکھنے کے وہ ایک بار پھر میرے سامنے جھکی تو اب اسکے آدھے ممے نظر آ رہے تھے، جھکتے ہی وہ میری طرف دیکھنے لگی اور میں اسکی طرف، میں نے کہا اس سوٹ میں تو آپ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہی ہیں، وہ شرما گئی اور کہنے لگی ۔۔۔بس ایسے ہی چینج کر کیا، پتہ نہیں میرا دوپٹہ کہاں گیا ہے، وہ اٹھی تو میں نے کہا دوپٹہ رہنے دیں میں کونسا غیر ہوں، پھر وہ کہنے لگی کہ بھائی جان ایک بات پوچھوں اگر آپ غصہ نہیں کریں گے تو، وہ میں نے کہا پوچھو کوئی مسئلہ نہیں، بھائی جان آپ ماشاء اللہ سے خوبصورت ہیں جوانوں کی طرح صحت مند ہیں آپ بیوی کے بغیر کیسے گزارہ کر لیتے ہیں، میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ میں الحمداللہ جوانوں سے زیادہ جوان ہوں اندر سے، وہ شرما گئی اور ہنسنے لگی، تو میں نے پوچھا کہ تم شوہر کے بغیر کیسے رہتی ہو، وہ کہنے لگی کہ پردیس مجبوری ہے مگر میں کیسے رہتی ہوں وہ میں جانتی ہے یا میرا خدا، میں نے اسے کہا کہ ہم دونوں ہی ایک جیسے ہیں، میرے پاس بیوی نہیں اور تمہارے پاس شوہر نہیں، پھر وہ چُپ کر کے بیٹھ گئی۔

میں چائے پی چکا تھا میں جانے کے لیے اٹھنے لگا تو وہ تڑپ کر کہنے لگی کہ بیٹھ جائیں ٹھوڑی دیر، میں نے کہا کہ اگر اکیلے ڈر لگ رہا ہے تو میں یہیں آپ کے گھر ہی سو جاتا ہوں، میں نے پیار سے اسکی طرف دیکھا تو اسکی نظریں جھکا لیں اور مدھم سی آواز میں کہا ۔۔۔پتہ نہیں، پھر وہ سوچ کر کہنے لگی کہ پتہ نہیں، زمانہ بڑا خراب ہے اور لوگ طرح طرح کی باتیں بنا لیتے ہیں، میں نے کہا چلو ٹھیک ہے تم میرا فون نمبر اپنے پاس رکھ لو اگر کوئی مسئلہ ہوا تو مجھے کال کر لینا وہ کہنے لگے چلیں ٹھیک ہے اس نے موبائل میں میرا نمبر ڈائل کیا اور میرے نمبر پر مس کال کی میں اپنے گھر آگیا کپڑے چینج کی ہے مگر میرا ذہن ابھی تک اس کے سینے پر اس کے ہونٹ اور اس کی آنکھوں پر تھا کافی دیر گزر گئی اور میں سونے کی تیاری کر رہا تھا کہ اچانک میرا موبائل بجا گیارہ بجے کا ٹائم تھا اور میری ہمسائی نے کہا بھائی جان مجھے ڈر لگ رہا ہے آپ ہمارے گھر آ کر سو جائیں میں نے کہا چلو ٹھیک ہے تم دروازہ کھولو میں آتا ہوں، میں اس کے دروازے پر پہنچا تو وہ دروازے کے پیچھے کھڑی تھی اور دروازہ کھلا تھا میں اندر گیا اس نے دروازے کو اندر سے لاک کیا اور کہنے لگے پتہ نہیں مجھے کیوں لگ رہا تھا کے قریب کافی اندھیرا تھا میں نے اس کا ہاتھ لگا کر کہنے لگا کہ کیوں آپ کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں میں ہوں ادھر ہر وہ میرے ساتھ چپک گئی اور تھوڑی دیر بعد شرما کر پیچھے ہٹ گئی پھر ہم ہم ٹی وی لاؤنج میں میں جا کر بیٹھ گئے گئے اس نے کہا کہ آپ دوسرے کمرے میں سو جائیں وہاں پر دو چارپائیاں پڑی تھی میںنے کہا کہ میں جب یہاں آیا ہوں تو آپ جہاں سوئے ہیں وہیں پر میں بھی سو جاؤں گا وہ کہنے لگی کہ نہیں دوسرے کمرے میں بچے ہیں آپ ساٹھ والےکمرے میں سو جائیں بھائی میں نے کہا چلو ٹھیک ہے وہ میرے پاس کمرے میں آ کر دوسری چارپائی پر بیٹھ گئی اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی میں نے کہا تھک چکا ہوں میری بیوی ہوتی تو مجھے دبا دیتی وہ کہنے لگی کوئی مسئلہ نہیں میں دبا دیتی ہوں اور میری چارپائی پر آکر بیٹھ گئی میں نے ایک دفعہ اوپر سے نہیں نہیں کہا، لیکن پھر وہ میری ٹانگیں دبانے لگی وہ صرف گھٹنوں تک دبا رہی تھی میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے پٹوں رکھا اور کہا نیچے سے بھی دباؤ او میں نے تہمت پہن رکھا تھا اور میرا لن راڈ جیسا ہو چکا تھا، دباتے دباتے جیسے ہی اسکا ہاتھ میرے لن کے ساتھ لگا، وہ پیچھے ہٹ گئی کہ یہ کیا ہے، میں نے کہا کہ کوئی بات نہیں تم نہ اسکے نزدیک جاؤ، وہ اردگر گرد دبا رہی تھی، اور آہستہ آہستہ میرے پٹوں پر ہاتھ پھیر دیتی، اب وہ میرے لن کے اردگرد دبا رہی تھی اور میں آنکھیں بند کے آہستہ آہستہ آہ آہ آہ کی آوازیں نکال رہا تھا، وہ ہنستے ہوئے کہنے لگی کہ یہ آوازیں تو بند کریں، پھر اس نے ایک دو بار جان بوجھ کر لن کو ٹچ کیا، اب میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن رکھ دیا، اس نے جلدی سے میریئٹ لن کو اپنی میٹھی میں لے لیا اور جلدی سے اس پر ہاتھ پھیر کے سائز کا اندازہ لگایا، اور جان بوجھ کر شرما کر کہنے لگی چھوڑیں میں نے یہ کام نہیں کرنا، چھوڑیں بشیر پلیز۔۔۔کیا کر ریے ہیں، میں ایسی نہیں ہوں، وہ میرے لن پر مسلسل ہاتھ بھی پھیر رہی تھی اور صرف زبانی کوشش کر رہی تھی، میں نے جھکڑ کر اسے اپنے ساتھ لٹا لیا، اور اسے جپھی لگا کی۔ وہ خود کو چھڑانے کی بہت ہلکی سی کوشش کر رہے تھی مگر ایک ہاتھ سے میرا لن بھی پکڑ رکھا تھا۔

میں اسکے اوپر لیٹ گیا اور اسکی ہونٹ چوسنے لگ گیا، ہم 1 منٹ تک ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے رہے پھر وہ شرما کے کہنے لگی، چھوڑیں مجھے پلیز چھوڑیں، میں چارپائی سے اترا اور اسے بھی اتار کر کھڑا کیا، اسے زور سے اپنے سینے سے لگا لیا، میرا لن اسکی پھدی کے اوپر تھا اور ہاتھ دونوں اسکی نرم لچکیلی گانڈ پر، میں نے اپنی قمیض اتاری اور اپنا تہمند بھی، ننگا لن دیکھتے ہی اس نے دونوں ہاتھوں سے میرا لن پکڑ لیا اور بیتابی سے مجھے kiss کرنے لگی، میں نے اسکے کپڑے اتارنے شروع کیے، اسکے بڑے بڑے ممے سامنے آتے ہی میں نے اسے چارپائی پر بٹھایا اور خود زمین پر بیٹھ کر اسکے ممے چوسنے لگ گیا، وہ بیتاب ہو رہی تھی، میں نے اسکی نِپل پر بائٹ کیا تو وہ آہ آہ کرنے لگی، پھر میں کھڑا ہو گیا وہ وہ بھی کھڑے ہو کر مجھ سے لپٹ گئی اور نے اسکے کندھوں پر زور دیکر اسے نیچے بٹھایا اور وہ میرے لن کو قریب سے دیکھنے لگی کہ یہ تو بہت بڑا ہے، آپکی بیویاں تو بہت خوشی قسمت تھیں، میں نے اپنا لن اسکے منہ میں ڈال دیا، پہلے تو وہ کن پر ایک kissکر کے پیچھے ہو گئی اور کہنے لگی کہ نہیں بس اتنا ہی، میں نے زبردستی لن اسکے منہ میں ڈال دیا، اب کی بار وہ مزے سے چوپے لگانے کے گئی، پھر وہ میرے ٹٹے چوسنے لگ گئی، پھر وہ خود ہی اٹھ کر چارپائی پر لیٹ گئی، میں اسکی ٹانگوں کے درمیان جا کر بیٹھ گیا اور اسکی پھدی پر ہاتھ پھیرنے لگا، وہ مزے سے آہ آہ کر رہی تھیں صاف لگ رہا تھا کہ جب میں کھانا کھا کر گیا تھا تو اسکے بعد اس نے پھدی کی تازہ شیو کی تھی، میں اسکے اوپر لیٹ گیا اور اسکے ممے چوسنے لگ گیا، اور کان اور ہونٹ چوس رہا تھا، وہ بیقرار ہو کر کہنے لگی، بس کرو پلیز اب اندر کرو میں فارغ ہونے والی ہوں، پلیز آہستہ آہستہ اندر کرنا آپکا بہت موٹا اور لمبا ہے، میں نے لن کی ٹوپی پر تھوک لگائی، وہ پہلے ہی ٹانگیں اٹھا کر انتظار کر رہی تھی میں نے آہستہ آہستہ اندر کرنا شروع کیا وہ درد اور مزے سے سر ادھر ادھر کر رہی تھی، میں نے پورا اندر کر کے چند جھٹکے ہی لگائے ہوں گے کہ وہ کہنے لگی تیز پلیز تیز۔۔۔زور سے کرو، اسکی دھکتی ہوئی پھدی میں میرا لن لوہے کے راڈ کی طرح چل رہا تھا، اس نے لمبی سانس کی، اور زور سے مجھے چُومنے لگ گئی، اسکی پھدی کے اندر کیچڑ بن چکا تھا وہ فارغ ہو گئی تھی، میں نے باہر نکالا اور اس نے کپڑے سے جلدی سے اپنی پھدی صاف کی اور میرا لن بھی، پھر خود ہی جلدی سے لن کو دوبارہ اندر ڈال لیا، میں اس سے زیادہ تجربہ کار تھا، میں آہستہ آہستہ جھٹکے لگا رہا تھا، وہ کہنے لگی پورا باہر نکال کے پھر اندر ڈالو، میں بار بار پورا باہر نکالتا اور ایک جھٹکے سے ایک دم اندر کرتا، وہ آہ کرتی، پھر میں نے اسے کہا کہ گھوڑی بن جاؤ، وہ گھوڑی بن گئی اور میں نے پھر اندر ڈال دیا، میں تیز تیز جھٹکے لگا رہا تھا، وہ کہنے لگی پلیز فارغ نہ ہونا، میں نے کہا میں ہونے والا ہوں، وہ جلدی سے پیچھے ہٹی، سیدھی لیٹ کر پھر ٹانگیں کھول دیں، میں نے اندر کیا اور میزائل کی سپیڈ سے جھٹکے مارنے لگا، ایک دم پورے کا پورا قیمتی مادہ میں نے اسکے اندر ڈال دیا، گرم گرم مادہ اندر محسوس ہوتے ہی وہ پر سکون ہو گئی، اور میں اسکے اوپر ہی لیٹ گیا، وہ میری کمر پر ہاتھ پھر رہی تھی اور مجھے چُومے ہی جا رہی تھی، پھر وہ کہنے لگی کہ آج جب آپ نے پہلی بار میری طرف دیکھا تھا مجھے سمجھ آ گئی تھی، میں اسی لیے کپڑے بدل کر آپکے لیے تیار ہو گئی تھی، وہ کہنے لگی کہ 50 سال کی عمر میں بھی آپ 25 سال سے زیادہ جوان ہیں، پھر ہم واش روم میں جا کر صفائی کی، اور سو گئے، میں صبح آذان کے وقت اٹھ کر اپنے گھر چلا گیا، 9 بجے کے قریب وہ بچوں کو سکول بھیج کر فارغ تھی اور مجھے ناشتے کے لیے بلانے آ گئی، ہم نے ناشتے کے بعد پھر ایک ٹرپ کیا، اب کی بار وہ زیادہ ایکٹو تھی، خود ہی چوپے لگا رہی تھی، اور اور اپنے ممے میرے منہ میں ڈال رہی تھی۔

بشیر آنکھیں بند کر اپنی کہانی سنا رہا تھا اور میں اسکے لن اور ٹٹوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسکے سینے پر kiss کر رہا تھا، اسکا سودا ایک بار پھر راڈ بن چکا تھا، وہ کہنے لگا کہ الٹا لیٹو۔۔۔میں نے کہا میں لیٹتا ہوں مگر اوپر اوپر کرنا ہے میں نے نہ کبھی اندر کروایا ہے اور نہ مجھے شوق ہے، وہ پیار سے کہنے لگا کہ ٹینشن نہ کو میں آرام آرام سے اندر کروں گا اور تیل لگا لوں گا، مجھے پھر بھی ڈر لگا رہا تھا میں نے پھر بھی اندر کروانے سے انکار کیا تو وہ غصے ہو کر کہنے لگا کہ کیا شوق ہے پھر تمہیں؟ میں نے کہا بس رومانس کرنے کا، وہ مجھے اندر کروانے کے لیے منا رہا تھا اور میں مسلسل انکار کر رہا تھا، پھر وہ غصے سے لیٹ گیا اور کہنے لگا کہ جاؤ آج کے بعد میری تمہاری دوستی ختم ہے تم نے میرا دل توڑ دیا ہے ہے میں اس کے ساتھ چپک گیا اور اس کو منانے لگا لگا وہ کہنے لگا کیا فائدہ اتنی دیر اگر تھے لیٹنے کا اگر یہ کام نہیں کرنا تو میں نے کہا کہ میں یہ کام کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن اوپر اوپر سے سے وہ کہنے لگا کہ مجھے تو ایسے مزا نہیں آتا اور میں ایسے کروں گا بھی نہیں نہیں پھر ہم چپ کر کے تھوڑی دیر لیٹ گئے میں اس کو راضی کرنے کا کوئی طریقہ سوچ رہا تھا میں نے اسے کہا کہ چلیں میں آپ کو کو فل باڈی مساج کر دیتا ہوں وہ کہنے لگا کہ مجھے نہیں چاہیے تو میں اس کو کہا کہ بہت مزہ آئے گا تمہیں تمہاری ساری تھکاوٹ اتر جائے گی گی ہے وہ کہنے لگا کہ اچھا چلو ادھر الماری میں سے ایک پرانا کپڑا نکال کر لاؤ اور تیل بھی لے آؤ میں نے اس کے جسم پر تیل لگایا یا اور اسے مساج کرنے لگا لگا تقریباً آدھا گھنٹہ مساج کیا وہ کہنے لگا کہ واقعی مساج کا تو اس کام سے زیادہ مزہ ہے پھر میں نے اس کے لنڈ پر تیل لگایا یا اور ہلکی ہلکی مالش کرنے لگا لگا وہ بالکل سیدھا کھڑا تھا اور بیتاب ہو رہا تھا تھا، میں آہستہ آہستہ اسکی مٹھ مار رہا تھا، اور تیل لگا کر لن کو فل چکنا کیا اور پھر مٹھ مارنے لگا، اور لن گرم لوہے کی طرح دہکنے لگا تو وہ بھی تیز تیز سانسیں لینے لگا، آنکھیں بند کر کے مزہ کے رہا تھا، اچانک اسکے منہ سے ایک لمبی آہ ہ ہ ہ کی آواز نکلی اور اسکا قیمتی مادہ اسکے پیٹ بکھرا تھا، تھوڑی دیر میں مارتا رہا جب اسکا اسکا سودا بالکل ڈھیلا ہو گیا تو اس نے کہا ایک اور کپڑا کے کر آو، میں نے دوسرے کپڑے اسے اسے صاف کیا، اور کہا کہ میری بھی مٹھ مارو مجھے بھی فارغ ہونا ہے، وہ کہنے لگا کہ تم اپنی خود مار لو مجھ سے نہیں ہوتا، میں نے 2، بار ریکوئسٹ کی تو کہنے لگا کہ اچھا چلو واش روم میں، وہ میرے ساتھ کھڑا ہو گیا ایک ہاتھ اس نے میرے پیٹھ پر رکھا اور تھوک لگا کے میرے سوراخ پر انگی پھیرنے لگا اور دوسرے ہاتھ سے میری مٹھ مارنے کگا، مجھے زیادہ ٹائم نہیں لگا اور میں بھی فارغ ہو گیا، وہ میرا مادہ دیکھ کر کہنے لگا کہ تمہاری عمر میں میرا بھی اتنا زیادہ نکلتا تھا، پھر ہم نے غسل کیا اور آدھی رات کے قریب میں نے کہا کہ میں گھر جا رہا ہوں، وہ اصرار کرنے لگا کہ یہیں لیٹ جاؤ اب میں بھی تہمارے لیے آیا ہوں اور یہاں اکیلا کیا کروں گا۔ میں نے اصرار کیا کہ نہیں میں اپنے گھر ہی جاؤں گا، اور نے مجھے جپھی لگائی، فرنچ کِس کی اور جاتے ہوئے کہا کہ اب مجھے پتہ چل گیا ہے تم جس ٹائپ کے ہو، وہ کام تو تم نے کروانا نہیں کبھی کبھی آ کر مجھے فل باڈی مساج کر دیا کرو، میں وعدہ کیا کہ ٹھیک ہے اور میں اپنے گھر کو چل دیا۔

اسکے بعد تقریباً 1 سال بعد اس نے ریٹائرمنٹ لے لی، میری زندگی اس دوران کئی نئے بوڑھے بابے آ رہے تھے اور جا رہے تھے، 1 سال کے دوران تقریباً 4، 5 بار میں نے بشیر کو مساج کیا، ہم دونوں نے ایک دوسرے کو ہاتھوں سے فارغ کیا مساج کے دوران وہ مجھے اپنے سیکس کی کہانیاں سناتا رہتا، اپنے گاؤں کی گشتی کے ساتھ سیٹنگ اور اسکی پھدی مارنے کی، 1 ، 2 بار لونڈے بازی کی، اور اپنی چاروں سہاگ رات کی کہانیاں سنائیں جو کہ بہت سنسنی خیز تھی

پھر وہ اصرار کرنے لگا کہ کسی اٹھارہ، بیس سال کی کنواری لڑکی سے دوستی کرو اور اسے میرے گھر لے کر آؤ میں پولیس کی وردی میں اوپر سے اکیلے ہی چھاپہ مار کر تم دونوں کو پکڑوں گا اور پھر اسی بہانے میں بھی اس لڑکی کی پھدی مار لوں گا وہ کہنے لگا کہ چھٹی عمر کی لڑکی کی پھدی مارنے کو میرا بہت دل کرتاہے، میں نے اسکے منہ پر تو اس سے کہا کہ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔اسکے بعد اسکا اتنا گھٹیا اور گندہ پلان سن کر میں نے اسکی کبھی کال نہیں اٹھائی، ایک بار اسکی کال اٹھائی اور اسے کہا کہ آئندہ مجھے کال نہ کرنا، وہ کہنے لگا کہ تم نے وعدہ کیا تھا، میں نے کہا لن پر چڑھ گیا میرا وعدہ اور تو بھی، آئندہ مجھے کال کی تو گندی گالیاں نکالوں گا تمہیں، بوڑھا ہونے کی وجہ سے وہ ڈر گیا اور کبھی کال نہیں کی، ایک بار بازار میں آمنا سامنا ہوا تو ہم دونوں نے ایک دوسرے سے سلام لینا بھی گوارہ نہیں کیا۔

(ختم شدہ)