62 سالہ بشیر کانسٹیبل کے ساتھ

یہ اُن دنوں کا واقعہ ہے جب میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی میں جاب کرتا تھا، میرا آفس میرے گھر سے تقریباً 25 کلومیٹر دور تھا، راستے میں ایک بیلا بھی آتا تھا یعنی کہ چھوٹا سارا جنگل۔

اُنہی دنوں مجھے بُڈھے بابوں کا نیا نیا پریکٹیکل تجربہ شروع ہوا تھا حالانکہ یہ خواہش بہت پہلے سے تھی مگر ڈر، شرم عزت جانے کا خوف یا سمجھ لیں کہ موقع نہ ملنے پر کبھی پریکٹیکل سیکس کیا نہیں تھا، خیالوں میں روز اپنے محلے کے 2 بُڈھے جو مجھے پسند تھے انکے ساتھ سیکس کرتا تھا، انکے خیال میں مُٹھ بھی کبھی کبھی مار لیتا تھا، رات کو سوتے وقت خیالوں میں انہیں جپھیاں لگانا انہیں پیار کرنا انکے ل کے ساتھ کھیلنا یہ معمول کی بات تھی ان دونوں کے ساتھ خیالی سیکس کیے بغیر نیند ہی نہیں آتی تھی۔

بشیر ایک ایک ساٹھ سال کا بوڑھا آدمی تھا جو کہ پولیس میں جاب کرتا تھا تھا وہ بھی روز میری طرح ایک شہر سے دوسرے شہر جاتا عطا وہیں جاب کرتا اور اس کا گاؤں میرے گاؤں سے 3 یا 4 گاؤں چھوڑ کر آگے تھا، اس سے پہلے کئی بار میں اسے دیکھ چکا تھا مگر اس کے بارے کبھی ایسا سوچا نہیں تھا، ساڑھے چھ فٹ قد، چوڑا سینہ، گندمی رنگ، پتلے ہونٹ اور ناک ہر وقت تازہ شیو اور چھوٹی چھوٹی مونچھیں، عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے کندھے تھوڑے جھک گئے تھے، سردیوں کے دن تھے پولیس یونیفارم کے اوپر براؤن کلر کی چادر اوڑھ لیتا تھا چُھٹی کے بعد۔

ایک دن میں ساڑھے پانچ بجے چُٹھی کر کے نکلا تو وہ بس سٹاپ پر کھڑا تھا، کسی مسئلے کی وجہ سے ٹریفک ہڑتال تھی اُس نے مجھے لفٹ کا اشارہ کیا ، میں رُکا اور اس نے کہا بیٹا کہاں جا رہے ہو، بس نہیں مل رہی پلیز مجھے فلاں فلاں جگہ تک بٹھا لو، میں نے کہا کوئی بات نہیں میں اُدھر ہی جا رہا ہوں میں اتار دوں گا آپ کو ۔۔ وہ بیٹھ گیا اور ہم چل دیے، راستے میں ہم دونوں باتیں کرتے جا رہے تھے وہ مجھ سے تعارفی سوال پوچھے جا رہا تھا کہ کیا نام ہے، کہاں رہتے ہو، کب سے یہاں جاب کر رہے ہو اور اپنا بھی ساتھ ساتھ بتائے جا رہا تھا، 15 منٹ تک میرے ذہن میں کوئی گندہ خیال نہیں آیا، تھوڑی دیر بعد باتیں ختم ہو گئیں اور سڑک بھی جنگل میں داخل ہو گئی۔

ٹریفک نہ ہونے کی وجہ سے سڑک بالکل سنسان تھی، تو اچانک میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ اسے چیک کیا جائے، میں نے اسے کہا لگتا ہے پچھلے ٹائر میں ہوا کم ہے تھوڑا آگے ہو کر بیٹھ جائیں، وہ تھوڑا آگے ہو گیا، پھر میں نے اپنی پیٹھ پیچھے کھسکا کر اسکے سودے کے ساتھ ملا دی، پھر آگے کر لی، پھر میں نے اسے کہا کہ چاچو تھوڑا آگے ہو جائیں، پولیس والا تھا ایک ہی بار میں سمجھ گیا تھا اب کی بار وہ فُل آگے ہو گیا اور اپنا سودا میرے بالکل ساتھ لگا دیا، ل تو اسکا سو رہا تھا مجھے بالکل محسوس نہیں ہوا پہلے پھر جب میں نے سیدھا ہو کر بیٹھنے کے بہانے اپنی گانڈ اسکے سودے کے رگڑی تو وہ بھی مجھے محسوس ہونےلگا، اس نے اپنے ہاتھ میری کمر کے اردگرد رکھ لیے، ہم دونوں کوئی بات نہیں کر رہے تھے اتنی دیر میں اسکا گاؤں آ گیا وہ نیچے اترا، اپنی چادر اٹھائی تو اس نے مجھے صاف پتہ چل رہا تھا کہ اس نے انڈر وئیر نہیں پہن رکھا تھا، اس نے مجھے گلے لگایا اور ہاتھ دبا کر سلام کیا میرا شکریہ ادا کیا اور اپنے گاؤں داخل ہو گیا۔

اگلے دن اسی ٹائم پر پھر وہ بس سٹاپ پر کھڑا تھا، مجھے دیکھتے ہی جلدی جلدی سڑک پر آ کر اس نے مجھے اشارہ کیا، اُس دن ٹریفک چل رہی تھی، میں نے پوچھا کیا بات ہے گاڑی نہیں ملی؟ تو چاچو بشیر کہنے لگے کہ "گاڑیاں تو دو تین میں نے گُزار دیں ہیں، میں تو تمہارے انتظار میں کھڑا تھا" اسکے بعد وہ ڈائریکٹ ہی فُل آگے ہو کر بیٹھ گیا اور بیٹھتے ہی اپنے ہاتھ میری کمر کے اردگرد رکھ لیے۔

(۔۔۔۔۔۔جاری ہے)